سیرت النبی ؐ — Page 28
ہے اور پانی بھر لیا ہے آپ نے حکم دیا کہ اس آٹے کو پھینک دو اور اس پانی کو بہا دو۔اس خوف الہی کو دیکھو اور دنیا کے سب راستبازوں کی زندگیوں کا اس پاک نبی کی زندگی سے مقابلہ کرو کہ اس میں خوف الہی کس قدر زیادہ تھا۔آپ ملتی کہ تم اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کرتے :- پہلے میں ذکر کر چکا ہوں کہ آنحضرت سلیلایی تم اپنی نسبت فرماتے تھے کہ وَمَا أَدْرِي مَا يَفْعَلُ ہی میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ آپ کبھی اس بات کا دعوی نہ کرتے کہ اپنے اعمال کے زور سے جنت کے وارث بن جائیں گے بلکہ ہمیشہ یہی تعلیم دیتے کہ خدا کے فضل سے جو کچھ ملے گا ملے گا اور اپنی نسبت بھی یہی فرماتے کہ میری نجات بھی خدا کے ہی فضل سے ہوگی۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَنْ يُدْخِلَ اَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ قَالُوْ وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَ نِيَ اللَّهُ بِفَضْلِهِ وَرَحْمَتَتِهِ فَسَدِّ دُوْا وَقَا رِبُوْا وَلَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنَا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا وَا إِمَامُسِيْنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ ( بخاری کتاب المرضى باب نهى تمنى المريض الموت) فرماتے ہیں میں رسول کریم صلی یا یہ تم کو ایک دفعہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کو اس کا عمل جنت میں نہیں داخل کرے گا۔لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہ ہوں گے آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ میں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہ ہوں گا بلکہ خدا کا فضل اور اس کی رحمت مجھے ڈھانپ لیں گے تو میں جنت میں داخل ہوں گا اس لئے تم نیکی کرو اور سچائی سے کام لو اور خدا کی نزدیکی کو تلاش کرو اور تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو شاید وہ نیکی میں اور ترقی کرے اور اگر بد ہے تو شاید 28