سیرت النبی ؐ — Page 15
تھے کیونکہ انہیں کعبہ کی ولایت کی وجہ سے جو حکومت کل قبائل عرب پر تھی اس کی وجہ سے ان کے مزاج دوسرے عربوں کی نسبت زیادہ آزاد تھے بلکہ وہ ایک حد تک خود حکومت کرنے کے عادی تھے اس لئے ان کا کسی شخص کی حکومت کا اقرار کر لینا تو بالکل امر محال تھا یہ وہ قوم تھی کہ جس میں رسول کریم سالی نے یہ تم کا ظہور ہوا اور پھر ایسے رنگ میں کہ آپ نے ان کی ایک نہیں دو نہیں تمام رسوم و عادات بلکہ تمام اعتقادات کا قلع قمع کرنا شروع کیا جس کے بدلہ میں انکے دلوں میں آپ کی نسبت جو کچھ بغض و کینہ ہوگا وہ آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔مگر آپ کے اخلاق کو دیکھو کہ ایسی آزادقوم باوجود ہزاروں کینوں اور بغضوں کے جب آپ کے ساتھ ملی ہے اسے اپنے سر پیر کا ہوش نہیں رہا وہ سب خودسری بھول گئی اور آپ کے عشق میں کچھ ایسی مست ہوئی کہ آزادی کے خیال خواب ہو گئے۔اور یا تو کسی کی ماتحتی کو برداشت نہ کرتی تھی یا آپ کی غلامی کو فخر سمجنے لگی۔اللہ اللہ ! بڑے بڑے خونخوار اور وحشی عرب مذہبی جوش سے بھرے ہوئے قومی غیرت سے دیوانہ ہو کر آپ کے خون کے پیاسے ہو کر آپ کے پاس آتے تھے اور ایسے رام ہوتے تھے کہ آپ ہی کا کلمہ پڑھنے لگ جاتے۔حضرت عمر جیسا تیز مزاج گھر سے یہ تہیہ کر کے نکلا کہ آج اس مدعی نبوت کا خاتمہ ہی کر کے آؤں گا۔غصہ سے بھر اہو اتلوار کھینچے ہوئے آپ کے پاس آتا ہے لیکن آپ کی نرمی اور وقار وسکیت اور اللہ تعالیٰ پر ایمان دیکھ کر آپ کو قتل تو کیا کرنا تھا خود اپنے نفس کو قتل کر کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا۔کیا کوئی ایک نظیر بھی دنیا میں ایسی معلوم ہوتی ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ایسی آزاد اور خونخوار قوم کو کسی نے ایسا مطیع کیا ہو اور وہ اپنی آزادی چھوڑ کر غلامی پر آمادہ ہوگئی ہو اور ہر قسم کی فرمانبراری کے نمونے اس نے دکھائے ہوں۔اگر کوئی ایسی قوم پائی جاتی ہو تو اس کا نشان و پتہ ہمیں بتاؤ تا ہم بھی تو اس کے حالات 15