سیرت النبی ؐ — Page 227
تھیں لیکن ان کی شرارت کے مقابلہ میں آنحضرت صالی تم نے ان سے جو نرم سلوک کیا یعنی صرف ایک خفیف سا تاوان لے کر چھوڑ دیا۔وہ اپنی آپ ہی نظیر ہے مگر اس نرم سلوک پر بھی ابھی آپ کے دل میں یہ تڑپ باقی تھی کہ اگر ہو سکے تو اور بھی نرمی ان سے برتوں اور آپ بہانہ ہی ڈھونڈتے تھے کہ کوئی اور معقول وجہ پیدا ہو جائے۔تو میں ان کو بلا تاوان لئے کے چھوڑوں۔چنانچہ اس موقعہ پر آپ نے حضرت جبیر سے جو گفتگو فرمائی وہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ آپ کا دل اسی طرف مائل تھا کہ کوئی معقول عذر ہو تو میں ان لوگوں کو یونہی چھوڑ دوں۔ہاں بلا وجہ چھوڑنے میں کئی قسم کے پولیٹیکل نقص تھے۔جن کی وجہ سے آپ بلا کافی وجوہات کے یونہی نہیں چھوڑ سکتے تھے۔اس گفتگو سے جہاں مذکورہ بالا نتیجہ نکلتا ہے وہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے محسنوں کے احسانات کیسے یادرہتے تھے اور آپ ان کا بدلہ دینے کے تیار رہتے تھے۔حضرت جبیر فرماتے ہیں کہ إِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أَسَارَى بَدْرٍ لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيَ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ التَتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ له۔( بخاری کتاب الجہاد باب ما من النبی ﷺ على الاساری) یعنی نبی کریم صانا السلام نے قیدیان بدر کے متعلق فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا۔اور ان ناشدنیوں کے حق میں سفارش کرتا تو میں ضرور ان کو چھوڑ دیتا۔یہ کیا ہی پیارا کلام ہے۔اور کن بلند خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں۔جن کے سینوں میں احسانات کی قدر کرنے والا دل ہو۔شاید اکثر ناظرین مطعم بن عدی کے نام اور اس کے کام سے ناواقف ہوں۔اور خیال کریں کہ اس حدیث کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے اس لئے میں اس جگہ مطعم بن عدی کا وہ واقعہ بیان کر دیتا ہوں جس کی وجہ سے آنحضرت سلیم نے اس موقعہ پر مطعم بن عدی کو یا دفرمایا اور خواہش فرمائی کہ اگر آج وہ ہوتا تو میں ان قیدیان جنگ کو اس کی سفارش 227)