سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 228

پر چھوڑ دیتا۔آنحضرت سالی سی ہی تم جب مکہ میں تشریف رکھتے تھے تو ایک دفعہ ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے مشورہ کر کے قریش کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب سے خرید وفروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات بالکل ترک کر دیں کیونکہ وہ آنحضرت مصلی یہ ستم کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو ان کے دشمنوں کے سپرد نہیں کر دیتے۔کہ جس طرح چاہیں ان سے سلوک کریں۔چنانچہ اس مضمون کا ایک معاہدہ لکھا گیا کہ آئندہ کوئی شخص بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ہاتھ نہ کوئی چیز فروخت کرے گا۔نہ ان سے خریدے گا اور نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ کرے گا۔اس بائیکاٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کے شر سے بچنے کے لئے حضرت کے چچا ابو طالب کو مذکورہ بالا دونوں گھرانوں سمیت مکہ والوں سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔اور چونکہ مکہ ایک وادی غیر ذی زرع میں واقع ہے۔کھانے پینے کی سخت تکلیف ہونے لگی اور سوائے اس کے کہ کوئی خدا کا بندہ چوری چھپے کوئی چیز دے جائے ان لو گوں کو ضروریات زندگی بھی میسر آنی مشکل ہوگئیں۔اور قریبا دو سال تک یہی معاملہ رہا۔اور بعض مؤرخ تو لکھتے ہیں کہ تین سال تک یہی حال رہا جب حالت انتہاء کو پہنچ گئی تو قریش میں سے پانچ شخص اس بات پر آمادہ ہوئے کہ اس ظلم کو دور کیا جائے اور ان قیدیوں کو رہائی دلائی جائے۔چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک دن عین کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ اب ہم اس ظلم کو زیادہ نہیں دیکھ سکتے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم لوگ تو پیٹ بھر کر کھانا کھا ئیں اور آرام سے زندگی بسر کیں۔مگر چند ہمارے ہی ہم قوم اسی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے کھانے پینے سے تنگ ہوں اور باوجود قیمت دینے کے غلہ ان کے ہاتھ فروخت نہ کیا جائے۔ہم اس معاہدہ کی جو ایسے ظلم کو روا رکھتا ہے پابندی نہیں 228