سیرت النبی ؐ — Page 198
ہے کہ ہم جاگیں کیونکہ سویا ہوا انسان اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتا۔جب وہ سو گیا تو اب اسے کیا خبر ہے کہ فلاں وقت آگیا ہے اب میں فلاں کام کر لوں اللہ تعالیٰ آنکھ کھول دے تو نماز ادا کر لیتے ہیں ورنہ مجبوری ہوتی ہے ( کیونکہ اس وقت الا رم کی گھڑیاں نہ تھیں ) اس بات کو سنکر آنحضرت کو حیرت ہوئی ہی تھی کیونکہ آپ کے دل میں جو ایمان تھا وہ کبھی آپ کو ایسا غافل نہ ہونے دیتا تھا کہ تہجد کا وقت گزر جائے اور آپ کو خبر نہ ہو اس لئے آپ نے دوسری طرف منہ کر کے صرف یہ کہہ دیا کہ انسان بات مانتا نہیں جھگڑتا ہے۔یعنی تم کو آئندہ کے لئے کوشش کرنی چاہئے تھی کہ وقت ضائع نہ ہو نہ کہ اس طرح ٹالنا چاہئے تھا۔چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں میں نے پھر کبھی تہجد میں ناغہ نہیں کیا۔طهارة النفس محتمل :- ہم پہلے حضرت علی کے ایک واقعہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت سی یہ اہم نہایت بردبار تھے بہت سے بادشاہوں کے جو اپنے خلاف بات سن کر یا اپنی مرضی کے نا موافق حرکت دیکھ کر نہایت غصہ اور جوش سے بھر جاتے ہیں اکثر چشم پوشی اور اعراض سے کام لیتے تھے اور ایسا طریق اختیار کرتے جس میں تحمل کا پہلو غالب ہو۔اب ہم ایک اور ایسا ہی واقعہ بیان کرتے ہیں جو ایک دوسرے پہلو سے آپ کے تحتل پر روشنی ڈالتا ہے اور آپ کی صفات حسنہ کو اور بھی روشن کر کے ظاہر کرتا ہے۔آنحضرت صلی یہ تم ہوازن پر فتح پاکے واپس آرہے تھے اور اس جنگ میں جو اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے ان کی تقسیم کا سوال در پیش تھا۔آپ کا منشا تھا کہ اگر ہوازن تائب ہو کر آجائیں اور معافی کے خواستگار ہوں تو ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں لیکن دن پر دن گزرتے چلے گئے اور ہوازن کی طرف سے کوئی وفد طلب گار معافی 198