سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 179

اس حدیث سے ہمیں کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔اول تو یہ کہ آنحضرت نے صرف ایک دفعہ ہی صحابہ کے ساتھ مل کر کام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کرتے تھے کیونکہ پہلا واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے وہ آپ کی مدنی زندگی کا ابتدائی واقعہ ہے اور یہ چھ سال بعد کا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپ کی عادت تھی کہ کوئی کام کسی کو نہ دیتے مگر خود اس میں شامل ہوتے تا کہ خود بھی ثواب سے حصہ لیں اور دوسروں کو اور بھی رغبت اور شوق پیدا ہو کہ جب ہمارا آقا خود شامل ہے تو ہمیں اس کام سے کیا عار ہو سکتا ہے۔دوسرے یہ کہ انہیں چستی سے کام کرنے کی عادت ہو اور وہ آپ کے شمول کی وجہ سے جس تیزی سے کام کرتے ہوں گے اسے ان کی عادت میں داخل کر دیا جائے۔دوسرے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے تھے اس وقت آپ بالکل نو وارد تھے اور ابھی آپ کی حکومت قائم نہ ہوئی تھی اور گوسینکڑوں جاں شار موجود تھے جو اپنی جان قربان کرنے کیلئے حاضر تھے مگر پھر بھی دنیا کے لحاظ سے آپ کے ماتحت کوئی علاقہ نہ تھا مگر غزوہ احزاب کے وقت گو آپ کے لشکر کی تعداد کم تھی مگر بارہا کھلے میدانوں میں کفار کو شکست دے چکے تھے۔یہودیوں کے دو قبیلے جلا وطن ہوکر ان کی املاک مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی تھیں۔مدینہ اور اسکے گردنواح میں آپ کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔بقیہ یہودی معاہدہ کی رو سے مسلمانوں سے دب کر صلح کر چکے تھے اس لئے اب آپ کی پہلی حالت اور اس حالت میں بہت فرق تھا اور اب آپ ایک ملک کے حاکم یا بادشاہ تھے پس اس وقت آپ کا صحابہ کے ساتھ مل کر کام کرنا جبکہ آپ کی عمر بھی چھپن سال کی ہو چکی تھی ایک اور ہی شان رکھتا ہے اور یہ واقعہ پہلے واقعہ سے بھی زیادہ شاندار ہے۔179