سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 71

آپ گناہ تصویر فرماتے تھے اور اس کا ایک جبہ بھی آپ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ خود آپ کی ذات کے لئے بھی آپکے پاس بہت مال آتا تھا اور صحابہ اس اخلاص اور عشق کے سبب جو انہیں آپ سے تھا بہت سے تحائف پیش کرتے رہتے تھے اور اگر آپ اس خیال سے کہ میرے بعد میرے رشتہ دار کس طرح گزارہ کریں گے ایک رقم جمع کر جاتے تو کر سکتے تھے لیکن آپ کے وسیع دل میں جو خدا تعالیٰ کی ہیبت اور اس کے جلال کا جلوہ گاہ تھا۔جو یقین و معرفت کا خزانہ تھا یہ دنیاوی خیال سما بھی نہیں سکتا تھا۔جو کچھ آتا آپ اسے غرباء میں تقسیم کر دیتے اور اپنے گھر میں کچھ بھی نہ رکھتے حتی کہ آپ کی وفات نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کا بندہ جو دنیا سے نہیں بلکہ خدا سے تعلق رکھتا تھا دنیاوی آلائشوں سے پاک اپنے بھیجنے والے کے پاس چلا گیا۔اللهمَ صِلِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ رسول کریم مسایلی ایم کی نہایت پیاری بیٹی موجود تھیں اور ان کی آگے اولا د تھی اور اولاد کی اولا دا اپنی ہی اولاد ہوتی ہے مگر آپ نے نہ کوئی مال اپنی بیویوں کے لئے چھوڑا اور نہ اولاد کے لئے۔ہاں بعض لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ ہماری بیویاں اور اولاد خود دولتمند ہیں۔ہمیں ان کے گزارہ کی کچھ فکر نہیں مگر یہاں یہ معاملہ بھی نہ تھا آپ کی بیویوں کی کوئی ایسی جائیدادا لگ موجود نہ تھی کہ جس سے وہ اپنا گزارہ کر سکیں نہ ہی آپ کی اولا د آسودہ حال تھی کہ جس سے آپ بے فکر ہوں ان کے پاس کوئی جائیداد کوئی روپیہ کوئی مال نہ تھا کہ جس پر دنیا سے بے فکر ہو جائیں ایسی صورت میں اگر آپ ان لوگوں کے لئے خود کوئی اندوختہ چھوڑ جاتے تو کسی شریعت کسی قانون انسانیت کے خلاف نہ ہوتا اور دنیا میں کسی انسان کا حق نہ ہوتا کہ وہ آپ کے اس فعل پر اعتراض کرتا لیکن آپ ان جذبات اور خیالات کے ماتحت کام نہیں کرتے 71