سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 70

ان کے منہ سے نکال دی اور فرمایا کہ تجھے علم نہیں کہ آل محمد مصدقہ نہیں کھایا کرتے۔اللہ اللہ کیسی احتیاط ہے۔کیا ہی تو کل ہے ایک کھجور بچے نے منہ میں ڈال لی تو اس میں حرج نہ تھا۔لیکن آپ کا تو کل ایسا نہ تھا جیسا کہ عام لوگوں کا ہوتا ہے۔آپ چاہتے تھے کہ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں وہ ایمان اور توکل پیدا کر دیں کہ بڑے ہو کر وہ کبھی صدقات کی طرف توجہ نہ کریں اور خدا کی ہی ذات پر بھروسہ رکھیں۔رسول کریم ملای یتیم کی جائیداد :- نہ صرف یہ کہ رسول کریم نے اپنی اولا د کو صدقہ سے محروم کر دیا بلکہ خود بھی کوئی ایسی جائیداد نہیں چھوڑی جس سے آپ کے بعد آپ کی بیویوں اور اولاد کی پرورش اور گزارہ کا انتظام ہو سکتا۔ممکن تھا کہ یہ خیال کر لیا جاتا کہ گو آپ نے اپنی آل کیلئے ہمیشہ کے لئے کوئی سامان نہیں مہیا کیا لیکن اپنے موجودہ رشتہ داروں کے لئے کوئی سامان کر دیا۔لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔اور جس وقت فوت ہوئے ہیں اس وقت آپ کے گھر میں کوئی روپیہ نہیں تھا۔عمر و بن حرث فرماتے ہیں مَا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا وَلَا دِيْنَا رًا وَلَا عَبَدأَ وَلَا آمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءِ وَسِلَا حَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَة (بخاری کتاب الوصایا) رسول کریم صلی ہیں یہ ہم نے اپنی وفات کے وقت کچھ نہیں چھوڑا نہ کوئی درہم نہ دینار نہ غلام نہ لونڈی اور نہ کچھ اور چیز سوائے اپنی سفید خچر اور اپنے ہتھیاروں کے اور ایک زمین کے جسے آپ تصدقہ میں دے چکے تھے۔یادرکھنا چاہئے کہ آپ کی حیثیت ایک بادشاہ کی تھی اور آپ چاہتے تو اپنے رشتہ داروں کے لئے سامان کر سکتے تھے اور کم سے کم اس قدر رو پیہ چھوڑ جانا تو آپ کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ جس سے آپ کی بیویوں اور اولاد کا گزارہ ہو سکے۔آپ کے پاس صرف خزانہ کا روپیہ ہی نہ رہتا تھا کہ جس کا اپنی ذات پر خرچ کرنا 70