سیرت النبی ؐ — Page 66
لئے آپ نے نہ صرف خوف کا اظہار نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکر کو بتایا کہ دیکھنے کا تو سوال ہی نہیں ہے خدا ہمارے ساتھ ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہم اپنے گھروں سے نکلے ہیں پھر ان کو طاقت ہی کہاں مل سکتی ہے کہ یہ آنکھ نیچی کر کے ہمیں دیکھیں۔یہ وہ تو گل ہے جو ایک جھوٹے انسان میں نہیں ہوسکتا۔جو ایک پر فریب دل میں نہیں ٹھہر سکتا۔شاید کوئی مجنون ایسا کر سکے کہ ایسے خطرناک موقع پر بے پرواہ رہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ مجنوں فقدان حواس کی وجہ سے ایسا کہ تو لے لیکن وہ کون ہے جو اس کے مجنونانہ خیالات کے مطابق اس کے متعاقبین کی آنکھوں کو اس سے پھیر دے اور متعاقب سر پر پہنچ کر پھر اس کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھ سکیں۔پس رسول کریم صلی لن پہ ستم کا تو کل ایک رسولا نہ تو کل تھا اور جسے خدا تعالیٰ نے اسی رنگ میں پورا کر دیا آپ نے خدا تعالیٰ پر یقین کر کے کہا کہ میرا خدا ایسے وقت میں مجھے ضائع نہیں کرے گا اور خدا نے آپ کے تو کل کو پورا کیا اور آپ کو دشمن کے قبضہ میں جانے سے بچالیا اور اسے اس طرح اندھا کر دیا کہ وہ آپ کے قریب پہنچ کر خائب و خاسر لوٹ گیا۔یہ وہ تو کل ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔حضرت موسیٰ سے بھی ایک موقع پر اس قسم کے تو گل کی نظیر ملتی ہے لیکن وہ مثال اس سے بہت ہی ادنی ہے کیونکر حضرت موسی کے ساتھیوں نے فرعونیوں کو دیکھ کر کہا کہ انالمدركون ہم ضرور گرفتار ہو جائیں گے اس پر حضرت موسی نے جواب میں کہلانٌ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (الشعراء: ۱۳) لیکن رسول کریم سیا سیا سیستم کا تو کل ایسا کامل تھا کہ اس نے آپ کے ساتھی پر بھی اثر ڈالا اور حضرت ابوبکر نے موسائیوں کی طرح گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ ہم ضرور پکڑے جائیں گے بلکہ یہ کہا کہ اگر وہ نیچی نظر کریں تو دیکھ لیں۔اور یہ ایمان اس پر تو کا نتیجہ تھا جو نور نبوت اس وقت آپ کے دل پر 66