سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 62

میں نے دیکھا کہ رسول کریم دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھتے ہاں حضرت ابوبکر بار بار دیکھتے جاتے تھے۔اللہ اللہ ! خدا تعالیٰ پر کیسا بھروسہ ہے۔دشمن گھوڑا دوڑا تا ہوا اس قدر نزدیک آ گیا ہے کہ آپ کی آواز اس تک پہنچ سکتی ہے اور آپ تیر کی زد میں آگئے ہیں مگر آپ ہیں کہ گھبراہٹ کا محسوس کرنا تو الگ رہا قرآن شریف پڑھتے جاتے ہیں ادھر حضرت ابوبکر بار بار دیکھتے جاتے ہیں کہ اب دشمن کس قدر نزدیک پہنچ گیا ہے کیا اس بھروسہ اور توکل کی کوئی اور نظیر بھی مل سکتی ہے۔کیا کوئی انسان ہے جس نے اس خطر ناک وقت میں ایسی بے تو جہی اور لا پرواہی کا اظہار کیا ہو۔اگر آپ کو دنیاوی اسباب کے استعمال کا خیال بھی ہوتا تو کم سے کم اتنا ضرور ہونا چاہئے تھا کہ آپ اس وقت یا تو سراقہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے یا وہاں سے تیز نکل جانے کی کوشش کرتے لیکن آپ نے ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں اختیار کی نہ تو آپ تیز قدم ہوئے اور نہ ہی آپ نے یہ ارادہ کیا کہ کسی طرح سراقہ کو ماردیں بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ بغیر اظہار خوف و ہراس اپنی پہلی رفتار پر قرآن شریف پڑھتے ہوئے چلے گئے۔وہ کونسی چیز تھی جس نے اس وقت آپ کے دل کو ایسا مضبوط کر دیا۔کونسی طاقت تھی جس نے آپ کے حوصلہ کو ایسا بلند کر دیا۔کونسی روح تھی جس نے آپ کے اندر اس قسم کی غیر معمولی زندگی پیدا کردی؟ یہ خدا پر توکل کے کرشمے تھے اس پر بھروسہ کے نتائج تھے۔آپ جانتے تھے کہ ظاہری اسباب میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔دنیا کی طاقتیں مجھے ہلاک نہیں کرسکتیں کیونکہ آسمان پر ایک خدا ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے جوان سب اسباب کا پیدا کر نیوالا ہے پس خالق اسباب کے خلاف اسباب کچھ نہیں کر سکتے یہ توکل آپ کا ضائع نہیں کیا گیا بلکہ خدا نے اسے پورا کیا اور سراقہ جو دوسو اونٹ کے لالچ میں آیا 62