سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 60

حرکت سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔میں نے بڑے بڑے بہادروں کے واقعات پڑھے ہیں لیکن ایسے موقع پر ان کی جو حالت ہوتی ہے اس کا رسول کریم کے واقعہ سے مقابلہ بھی کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔تاریخ دان جانتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے نپولین کا کیا حال تھا اور اس کے چہرہ پر حسرت کے کیسے بین آثار پائے جاتے تھے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمایوں کس طرح بار بار اپنے آپ کو دشمن کے ہاتھوں میں سپر د کر دینے کے لئے تیار ہو جاتا تھا۔اور اگر اس کے ساتھ چند نہایت و فادار جرنیل نہ ہوتے تو وہ شاید ایسا کر بھی دیتا۔اسی طرح اور بہت سے بڑے بہادر جرنیل گزرے ہیں جن پر مشکلات کے ایام آئے ہیں اور وہ ایسے اوقات میں جب دشمن ان کے چاروں طرف ان کی جستجو میں پھیل گیا گھبرا گئے ہیں لیکن رسول کریم ان دنیاوی لوگوں میں سے نہ تھے آپ کی نظریں دنیا کی طرف نہیں لگی ہوئی تھیں بلکہ آپ کی آنکھ خدا کی طرف اٹھی ہوئی تھی دنیا کے اسباب آپ کے مدنظر نہ تھے اور آپ یہ خیال نہ کرتے تھے کہ ایسے وقت میں میں تن تنہا صرف ایک ساتھی کے ساتھ کیا کر سکتا ہوں اور ایسے خطرناک راستہ میں اگر دشمن آجائے تو اس کے مقابلہ کے لئے میرے پاس کیا سامان ہیں بلکہ آپ یہ دیکھ رہے تھے کہ میرے ساتھ وہ خدا ہے جو ہمیشہ سے اپنے نیک بندوں کا محافظ چلا آیا ہے اور جس کے وار کا کوئی دشمن مقابلہ نہیں کرسکتا۔وہ خدا نوع کا خدا، ابراہیم کا خدا، موسیٰ کا خدا، یونس کا خدا، ایوب کا خدا، داؤد کا خدا، سلیمان کا خدا ، مسیح کا خدا تھا وہی میرا خدا ہے اس کی طاقتیں کبھی زائل نہیں ہوتیں اور وہ ایک دم کے لئے غافل نہیں ہے سراقہ بن جعشم لالچ اور دشمنی سے دیوانہ ہو کر آتا ہے اور دور سے دیکھ کر آپ کی طرف گھوڑا دوڑا دیتا ہے اس کے دل میں امید دریا کی طرح لہریں مارتی ہے۔وہ نہ صرف اپنے مذہب کی توہین کرنے والے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ کر اپنے سوختہ دل کو تسکین 60