سیرت النبی ؐ — Page 54
میں غیرت کا یہ حال تھا کہ جب ابوسفیان آپ کی ہتک کرتا رہا تو کچھ پرواہ نہ کی۔مگر جب شرک کے کلمات منہ پر لایا تو فرمایا اسے جواب دو۔یہ تو دشمن کا حال تھا دوستوں کے معاملہ میں بھی ایسے ہی سخت تھے۔منافق جنگ سے پیچھے رہ گئے تو کچھ پرواہ نہ کی ایک مؤمن نے جو اس حکم الہی کے بجالانے میں سستی کی تو آپ نے کس قدر غیرت سے کام لیا۔اور باوجود اس کے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان ایام ناراضگی میں بھی کعب بن مالک کو کنکھیوں سے دیکھتے رہتے۔اخلاص باللہ۔قیام حدود آنحضرت صالی اسلام کی غیرت دینی جس وضاحت سے مذکورہ بالا واقعات سے ثابت ہوتی ہے اس پر کچھ اور زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔اب میں آپ کے ایک اور خلق پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا معاملہ خدا تعالیٰ سے کیسا پاک تھا اور کس طرح آپ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا خیال رہتا تھا۔انسان فطرتا کسی کی مصیبت کو دیکھ کر رحم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔بہت سے لوگ جب کسی مجرم کو سزا ملتی دیکھتے ہیں تو باوجود اس علم کے کہ اس سے سخت جرائم سرزد ہوئے ہیں ان کے دل کو دکھ پہنچتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اب اس شخص سے جرم تو ہو ہی گیا ہے اور یہ تائب بھی ہے اسے چھوڑ دیا جائے تو اچھا ہے لیکن یہ ایک کمزوری ہے اگر اس جذبہ سے متاثر ہو کر مجرموں کو چھوڑ دیا جائے تو گناہ اور جرائم بہت ہی بڑھ جائیں۔فطری رحم کے علاوہ جب کسی بڑے آدمی سے جرم ہو تو لوگ عام طور پر نہیں پسند کرتے کہ اسے سزا ملے اور اس کی بڑائی سے متاثر ہو کر چاہتے ہیں کہ اسے کسی طرح چھوڑ دیا جائے بلکہ بڑے دولتمند یا کوئی دنیاوی وجاہت رکھنے والے آدمی تو روپیہ اور اثر خرچ کر کے ایک ایسی جماعت اپنے ساتھ کر لیتے ہیں کہ جو مشکلات کے وقت ان کا ساتھ دیتی ہے اور باوجود 54