سیرت النبی ؐ — Page 53
کے پاس چلا۔رستے میں فوج در فوج لوگ مجھ سے ملتے جاتے تھے اور مجھ کو مبارکباد دیتے جاتے تھے اور کہتے تھے اللہ کی معافی تم کو مبارک ہو۔کعب کہتے ہیں جب میں مسجد میں پہنچا۔دیکھا تو آنحضرت سلیا سلم بیٹھے ہیں لوگ آپ کے گرد ہیں طلحہ بن عبید اللہ مجھ کو دیکھ کر دوڑ کر اٹھے اور مصافحہ کیا۔مبارکباد دی۔خدا کی قسم مہاجرین میں سے اور کسی نے اٹھ کر مجھ کو مبارکباد نہیں دی۔میں طلحہ کا یہ احسان کبھی بھولنے والا نہیں۔کعب کہتے ہیں جب میں نے آنحضرت صلی یہ ہم کو سلام کیا میں نے دیکھا آپ کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا آپ نے فرمایا کعب وہ دن تجھ کو مبارک ہو جو ان سب دنوں سے بہتر ہے جب سے تیری ماں نے تجھ کو جنا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ معافی اللہ کی طرف سے ہوئی یا آپ کی طرف سے۔آپؐ نے فرمایا نہیں اللہ کی طرف سے ہوئی (اس نے خود معافی کا حکم اتارا )۔آنحضرت صلی لا یہی تم جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چاند کی طرح روشن ہو جا تا ہم لوگ اس کو پہچان لیتے۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ رسول کریم کی فطرت کیسی پاک اور مطہر تھی اور کس طرح آپ ہر رنگ میں کامل ہی کامل تھے۔بے شک بعض آدمی ہوتے ہیں جو غیرت دینی رکھتے ہیں مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض تو دشمنوں کے مقابلہ میں اظہار غیرت کر دیتے ہیں مگر دوستوں کے معاملہ میں اظہار غیرت نہیں کر سکتے اور بعض دوستوں پر اظہار غیرت کر دیتے ہیں مگر دشمنوں کے سامنے دب جاتے ہیں۔مگر رسول کریم صلی یتیم ایسے کامل انسان تھے کہ خواہ دین کی ہتک یا احکام الہیہ سے بے پرواہی دوست سے ہو یا دشمن سے برداشت نہ کر سکتے تھے اور فورا اس کا ازالہ کرنا چاہتے۔ادھر تو طبیعت کی نرمی کا یہ حال تھا کہ گالیوں پر گالیاں ملتی ہیں اور تکلیفیں دی جاتی ہیں مگر آپ پر واہ بھی نہیں کرتے اور ادھر خدا کے معاملہ 53