سیرت النبی ؐ — Page 52
آنحضرت سلیا ایلیم سے اجازت مانگو ( کہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے ) تو مناسب ہے جیسے آنحضرت نے ہلال بن امیہ کی جورو کو خدمت کی اجازت دی ( تم کو بھی اجازت دیں گے ) کعب نے کہا میں تو خدا کی قسم کبھی اس باب میں آنحضرت سلیم سے اجازت نہیں مانگنے کا کیونکہ مجھ کو معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی یہ تم کیا فرما ئیں (اجازت دیں یا نہ دیں) میں جوان آدمی ہوں (ہلال کی طرح ضعیف اور ناتواں نہیں ہوں ) خیر اس کے بعد دس راتیں اور گزریں اب پچاس راتیں پوری ہوگئیں اس وقت سے جب سے آپ نے لوگوں کو ہم سے سلام کلام کی ممانعت فرما دی تھی پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرما یاوَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُم (التوبہ: ۱۱۸) میرا دل تنگ ہور ہا تھا اور زمین اتنی کشادہ ہونے پر بھی مجھ پر تنگ ہوگئی تھی۔اتنے میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑی پر چڑھ کر پکار رہا تھا ( یہ ابو بکر صدیق تھے ) کعب بن مالک خوش ہو جا۔یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا اور مجھ کو یقین ہو گیا۔اب میری مشکل دور ہوئی اور آنحضرت صلی سلیم نے فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا قصور معاف کر دیا۔اب لوگ خوشخبری دینے میرے پاس اور میرے دونوں ساتھیوں (مرارہ اور ہلال) کے پاس جانے لگے۔ایک شخص ( زبیر بن عوام ) گھوڑا کراتے ہوئے میرے پاس آئے اور قبیلے کا ایک شخص دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا ( حمزہ بن عمر واسلمی ) اور پہاڑ پر کی آواز گھوڑے سے جلد مجھ کو پہنچ گئی۔خیر جب یہ خوشخبری کی آواز مجھ کو پہنچی میں نے (خوشی میں آن کر) کیا کیا دو کپڑے جو میرے پاس تھے وہ اتار کر اس کو پہنا دیئے اس وقت کپڑوں کی قسم سے میرے پاس یہی دو کپڑے تھے اور میں نے (ابو قتادہ سے ) دو کپڑے مانگ کر پہنے اور آنحضرت صلی الہی تم 52