سیرت النبی ؐ — Page 49
آپ نے پوچھا کعب تو کیوں پیچھے رہ گیا تو نے تو سواری بھی خرید لی تھی میں نے عرض کیا بیشک اگر کسی دنیا دار شخص کے سامنے میں اس وقت بیٹھا ہوتا تو باتیں بنا کر اس کے غصے سے بچ جاتا۔میں خوش تقریر بھی ہوں مگر خدا کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آج میں جھوٹ بول کر آپ کو خوش کر لوں تو کل اللہ تعالیٰ (اصل حقیقت کھول کر ) پھر آپ کو مجھ پر غصے کر دے گا ( اس سے فائدہ ہی کیا ہے) میں سچ ہی کیوں نہ بولوں گو آپ اس وقت سچ بولنے کی وجہ سے مجھ پر غصہ کریں گے مگر آئندہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی مجھ کو امید تو رہے گی خدا کی قسم میں سراسر قصور وار ہوں ) زور، طاقت ، قوت ، دولت سب میں کوئی میرے برابر نہ تھا اور میں یہ سب چیزیں ہوتے ہوئے پیچھے رہ گیا۔یہ سنکر آنحضرت سینی ایتم نے فرمایا۔کعب نے سچ سچ کہہ دیا کعب اب ایسا کر تو چلا جا جب تک اللہ تعالیٰ تیرے باب میں کوئی حکم نہ اتارے۔میں چلا۔بنی سلمہ کے کچھ لوگ اٹھ کر میرے پیچھے ہوئے اور کہنے لگے خدا کی قسم ہم کو تو معلوم نہیں کہ تو نے اس سے پہلے بھی کوئی قصور کیا ہو۔تو نے اور لوگوں کی طرح جو پیچھے رہ گئے تھے آنحضرت صلی شیا کی تم سے کوئی بہانہ کیوں نہ کر دیا اگر تو بھی کوئی بہانہ کرتا تو آنحضرت صلی یا اسلام کی دعا تیرے قصور کے لئے کافی ہو جاتی۔وہ برابر مجھ کو لعنت ملامت کرتے رہے قسم خدا کی ان کی باتوں سے پھر میرے دل میں آیا کہ آنحضرت کے پاس لوٹ کر چلوں اور اپنی اگلی بات ( گناہ کے اقرار) کو جھٹلا کر کوئی بہانہ نکالوں۔میں نے ان سے پوچھا۔اچھا اور بھی کوئی ہے جس نے میری طرح قصور کا اقرار کیا ہو۔انہوں نے کہاہاں دو اور بھی ہیں انہوں نے بھی تیری طرح گناہ کا اقرار کیا ہے ان سے بھی آنحضرت سال پیستم نے یہی فرمایا ہے جو تجھ سے فرمایا ہے میں نے پوچھا وہ دو شخص کون کون ہیں انہوں نے کہا مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقفی۔انہوں نے ایسے دو نیک شخصوں کا بیان کیا جو 49