سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 36

چاہنا کیا اس بے مثل یقین اور ایمان کو ظاہر نہیں کرتا جو آپ کو خدا پر تھا۔اور کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کا دل یا دالبی اور خشیت ایزدی سے ایسا معمور و آباد تھا کہ توجہ الی المخلوق کا اس میں کوئی خانہ خالی ہی نہ تھا۔اگر یہ بات کسی اور انسان میں بھی پائی جاتی تھی اور اگر کوئی اور شخص بھی آپ کے برابر یا آپ کے قریب بھی ایمان رکھتا تھا اور خدا کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا تو اسکے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے میں بھی خشیت الہبی کے یہ آثار پائے جانے ضروری ہیں مگر میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ زمین کے ہر گوشہ میں چراغ لے کر گھوم جاؤ، تاریخوں کی ورق گردانی کرو، مختلف مذاہب کے مقتداؤں کے جیون چرتر ،سوانح عمریاں اور بایو گرافیاں پڑھ جاؤ مگر ایسا کامل نمونہ کسی انسان میں نہ پاؤ گے۔اور وہ خوف خدا جو رسول کریم صلای ایتم کے ہر ایک قول سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ حزم واحتیاط جو آپ کے ہر ایک فعل سے ٹپکتی ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے انسان کی زندگی میں پایا جانا محال ہے۔وہ دعا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے یہ ہے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْوَ ذُبِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّا رِوَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى وَأَعْوَذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَآعُوَ ذَبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ عَنِى خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدُ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ( بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ من الماثم و المغرم ) اے میرے رب میں تجھ سے سستی اور شدید بڑھاپے اور گناہوں اور قرضہ اور قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب اور دوزخ کے فتنہ اور اس کے عذاب اور دولت کے فتنہ کے نقصانوں سے پناہ مانگتا ہوں اور اسی طرح میں غربت کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اور مسیح الدجال کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اور اے میرے اللہ میری خطاؤں کو مجھ سے برف اور 36