سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 32

کیا مارنے کے بعد۔اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر رات جب بستر پر جاتے تو اپنی طرف سے حساب ختم کر جاتے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتے کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو تب بھی تیرے ہی نام پر میری زندگی ہو اور جب اٹھتے تو خدا تعالیٰ کے احسان پر حمد کرتے کہ میں تو اپنی طرف سے دنیا سے علیحدہ ہو چکا تھا تیرا ہی فضل ہوا کہ تو نے پھر مجھے زندہ کیا اور میری عمر میں برکت دی۔ایک اور مثال :- جس طرح مذکورہ بالا دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ہر وقت موت کو یادرکھتے تھے اسی طرح مذکورہ ذیل دعا بھی اس بات پر شاہد ہے کہ آپ اپنی زندگی کی ہر گھڑی کو آخری گھڑی جانتے تھے اور جب آپ سونے لگتے تو اپنے رب سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کر لیتے اور گویا ہر ایک تغیر کیلئے تیار ہو جاتے۔چنانچہ براء بن عازب کی روایت ہے کہ كَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اوَى إِلى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَىٰ شِقِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَهْتُ وَجْهِي اِلَيْكَ وَفَوَضْتُ أَمْرِی اِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِئَ إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَاوَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيَكَ الَّذِي اَز سَلْت ( بخاری کتاب الدعوات باب النوم على الشق الايمن ) فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلیت های سیستم اپنے بستر پر جا کر لیٹتے تو اپنے دائیں پہلی پر لیٹتے پھر فرماتے اے میرے رب میں اپنی جان تیرے سپر د کرتا ہوں اپنی سب توجہ تیری ہی طرف پھیرتا ہوں۔میں اپنا معاملہ تیرے ہاتھوں میں دیتا ہوں۔اور اپنے آپ کو تیری پناہ میں دیتا ہوں۔تجھ سے نفع کا امیدوار ہوں۔تیری بڑائی اور استغنا سے خائف بھی ہوں تیرے غضب سے بچنے کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں اور نہ کوئی نجات کا مقام ہے مگر یہی کہ تجھ ہی سے نجات و پناہ طلب کی جائے میں 32