سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 257

من السباب سَبَابًا، كَانَ يَقُوْلُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: مَالَهُ تَرِبَ جَبِينه (بخاری کتاب الادب باب ما بـ واللعن) یعنی رسول کریم میں یا یہ تم نے تو گالی دینے کے عادی تھے، نہ منخش کلام کے عادی تھے ، نہ لعنت کیا کرتے تھے، جب آپ کو ہم میں سے کسی پر غصہ آتا تو آپ صرف اس قدر فرما دیا کرتے تھے کہ اسے کیا ہوا ہے اس کے ماتھے پر مٹی لگے۔یہ گواہی ایک ایسے شخص کی گواہی ہے جو کہ آپ کے ساتھ آپ کی عمر کے آخری حصہ میں جس میں سے پہلا حصہ آپ کی تکلیف کے زمانہ میں سے سب سے سخت زمانہ تھا رہا ہے اور پھر آپ کی عمر کا وہ حصہ ہے جبکہ ایام جوانی گزر کر بڑھا پا آ گیا تھا اور پڑھاپے میں عام طور پر انسان کی طبیعت چڑ چڑی ہو جاتی ہے لیکن باوجود اس کے وہ گواہی دیتا ہے کہ اس دس سال کے تجربہ سے اسے معلوم ہوا ہے کہ آپ نہ تو کبھی کسی کو گالی دیتے نہ کبھی آپ کے منہ سے کوئی مخش کلمہ نکلتا اور نہ کبھی کسی شخص پر لعنت کرتے ہاں حد سے حد غصہ میں اس قدر کہہ دیتے کہ تیرے ماتھے کومٹی لگے اور یہ فقرہ گالی کا فقرہ نہیں بلکہ یہ الفاظ عرب لوگ پیار سے بھی کہا کرتے ہیں اور گو عام طور پر ان کا ستعمال مہمل جملوں کے طور پر ہوتا ہے لیکن کبھی یہ الفاظ محبت کے اظہار کے لئے بھی استعمال کئے جاتے اور ان سے یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ اس کی یہ شوخی دور ہو کیونکہ ماتھا تکبر کی علامت ہے اور اس کومٹی لگنے سے یہ مراد ہے کہ اس کا یہ تکبر دور ہو۔نوٹ : اخبار الفضل میں یہ سلسلہ مضامین یہاں تک ہی شائع ہوا تھا لیکن سیرت کے مضمون پر حضور کی متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔(مرتب) 257