سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 253

لئے۔یعنی کبھی تو خدا تعالیٰ انسان کو اس کے درجہ کے بلند کرنے کے لئے مخاطب فرماتا ہے اور کبھی اس پر حجت قائم کرنے کے لئے چنانچہ بہت سے لوگ جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص قرب نہیں رکھتے ان کو بھی الہام ہو جاتے ہیں اور وہ نادانی سے اس پر اتر جاتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لئے آزمائش اور ان پر حجت ہوتے ہیں۔اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بجائے ان الہامات سے فائدہ اٹھانے کے وہ فخر و تکبر میں پڑ جاتے ہیں اور آخر ہلاک ہو جاتے ہیں۔رسول کریم صلای سیا ہی تم بھی چونکہ تواضع کے عالی مقام پر پہنچے تھے۔جب آپ کو الہام ہو ا تو آپ گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ کلام مجھ پر بطور آزمائش اور حجت نازل ہوا ہو اور یہ اپنا خوف حضرت خدیجہ کے آگے بیان فرما یا جس پر انہوں نے آپ کو تسلی دلائی اور بتایا کہ جو اخلاق آپ کے ہیں اور جس مقام پر آپ ہیں کیا ایسے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ ضائع کرتا ہے اور اپنا یقین ظاہر کرنے کے لئے انہوں نے قسم کھائی کہ تیرے جیسے کاموں والا انسان کبھی ضائع نہیں ہو سکتا۔حجت اور آزمائش کے لئے تو ان کے الہام ہو سکتے ہیں جن کے اعمال میں کمزوری ہو یا متکبر ہوں۔جو شخص آپ جیسا غریبوں کا خبر گیر اور اخلاق حسنہ کا ظاہر کرنے والا ہے کیا ان کو اللہ تعالیٰ تباہ کر سکتا ہے غرض حضرت خدیجہ کا جواب ظاہر کر رہا ہے کہ آنحضرت سالی یہ تم نے جو یہ فرمایا کہ میں اپنی جان پر ڈرتا ہوں۔اس کا یہی مطلب تھا کہ مجھے خوف ہے کہ میری آزمائش نہ ہو جس پر انہوں نے تسلی دی کہ آپ آزمائش کے مقام سے بالا ہیں۔آپ پر یہ الہامات خدا تعالیٰ کے انعامات کے طور پر نازل ہوئے ہیں چنانچہ آئندہ کی وحی نے آپ پر روز روشن کی طرح کھول دیا کہ آپ خدا تعالیٰ کے مقبول تھے اور آپ نے اپنے طریق عمل سے بتا دیا کہ آپ کا کہنا کہ ” میں کہاں اس الہام کا سنانے والا ہو سکتا ہوں صرف تواضع کے طور پر تھا نہ کہ بوجہ سستی اور ڈر کے کیونکہ جس 253