سیرت النبی ؐ — Page 236
سب پی چکے اور سب سے آخر میں میں نے نبی کریم صلی یا یہ ہم کو پیالہ دیا آپ نے پیالہ لے لیا اور اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فر ما یا ابو ہریرہ عرض کیا یارسول اللہ ! حکم فرما یا اب تو تم اور میں رہ گئے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ درست ہے فرمایا۔اچھا تو بیٹھ جاؤ اور پیوپس میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا جب پی چکا تو فرمایا کہ اور پیو۔میں نے اور پیا۔پھر فرمایا اور پیو۔اور اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آخر مجھے کہنا پڑا کہ خدا کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اب تو اس دودھ کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا اس پر فر ما یا! کہ اچھا تو مجھے دو۔میں نے وہ پیا لہ آپ کو پکڑا دیا۔آپ نے خدا تعالیٰ کی تعریف اور بسم اللہ پڑھی۔اور باقی بچا ہوا دودھ پی لیا۔اس حدیث سے رسول کریم صلی سیستم کی سیرت کے جن متفرق مضامین پر روشنی پڑتی ہے ان کے بیان کرنے کا تو یہ موقعہ نہیں مگر اس وقت میری غرض اس حدیث کے لانے سے یہ بیان کرنا کہ رسول کریم ملایم تکبر سے بالکل خالی تھے اور تکبر آپ کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔رسول کریم صلی لا یہ تم تو خیر بڑی شان کے آدمی تھے اور جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت دنیاوی شان بھی آپ کو بادشاہانہ حاصل تھی ( کیونکہ حضرت ابوہریرہ آپ کی وفات سے صرف تین سال پہلے مسلمان ہوئے تھے پس اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ مسلمان ہوتے ہی آپ کو یہ واقعہ پیش آیا تب بھی فتح خیبر کے بعد کا یہ واقعہ ہے جبکہ رسول کریم کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور عرب کے کئی قبائل آپ کی اطاعت کا اقرار کر چکے تھے)۔آپ سے دنیا وی حیثیت میں ادنیٰ لوگوں کو بلکہ معمولی معمولی اُمراء کو دیکھو کہ کیا تکبر اور عجب کے باعث وہ کسی شخص کا جوٹھا پی سکتے ہیں؟ اس آزادی کے زمانہ میں بھی جبکہ تمام بنی نوع انسان کی برابری کے دعوے کئے جاتے ہیں۔اس شان کو بنانے کے لئے طب کی 236