سیرت النبی ؐ — Page 235
رض لے گئے اور ایک دودھ کا پیالہ رکھا پایا۔آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ اندر سے جواب ملا فلاں مرد یا فلاں عورت ( حضرت ابوہریرہ کو یاد نہیں رہا کہ مرد کہا یا عورت) نے حضور کے لئے ہدیہ بھیجا ہے۔اس پر مجھے آواز دی۔میں نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! حاضر ہوں۔فرمایا اہل صفہ کے پاس جاؤ اور ان کو میرے پاس بلا ؤ۔ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے جن کے نہ تو کوئی رشتہ دار تھے جن کے پاس رہتے نہ اُن کے پاس مال تھا کہ اس پر گزارہ کرتے اور نہ کسی شخص کے ذمہ ان کا خرچ تھا۔جب نبی کریم صلی یا ستم کے پاس صدقہ آتا تو آپ ان کی طرف بھیجید یتے اور اس میں سے خود کچھ نہ کھاتے اور جب آپ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو آپ اُن کو بلا بھیجتے اور ہدیہ سے خود بھی کھاتے اور ان کو بھی اپنے ساتھ شریک فرماتے۔حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے اچھی نہ لگی اور مجھے خیال گزرا کہ یہ دودھ اصحاب الصفہ میں کیونکر تقسیم ہوگا۔میں زیادہ مستحق تھا کہ اس دودھ کو پیتا اور قوت حاصل کرتا، جب وہ لوگ آجائیں گے تو آپ مجھے حکم فرما دیں گے اور مجھے اپنے ہاتھ سے ان کو تقسیم کرنا پڑے گا اور غالب گمان یہ ہے کہ میرے لئے اس میں سے کچھ نہ بچے گا لیکن خدا اور رسول کی اطاعت سے کوئی چارہ نہ تھا پس میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کو بلایا۔وہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔آنحضرت سلائی یہی ہم نے ان کو اجازت دی پس وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔اس پر رسول کریم صلی اسلام نے فرمایا۔ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں۔فرمایا۔یہ پیالہ لو اور ان کو پلاؤ۔میں نے پیالہ لیا اور اس طرح تقسیم کرنا شروع کیا کہ پہلے ایک آدمی کو دیتا جب وہ پی لیتا اور سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر میں دوسرے کو دیتا جب وہ سیر ہو جا تا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔اسی طرح باری باری سب کو پلا نا شروع کیا یہاں تک کہ 235