سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 234

کرتا تھا ( یعنی رسول کریم صلی شما السلام کے زمانہ میں اس وقت صحابہ زیادہ تر اپنے اوقات دین کے سیکھنے میں ہی خرچ کرتے تھے اور کم وقت اپنی روزی کے کمانے میں لگاتے تھے اس لئے دنیاوی مال آپ کے پاس بہت کم ہوتا تھا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو کوئی کام کیا ہی نہ کرتے تھے، ہر وقت مسجد میں اس انتظار میں بیٹھے رہا کرتے تھے کہ کب رسول کریم سیاہ ہم نکلیں تو میں آپ کے ساتھ ہو جاؤں اور جو کچھ آپ کے دہن مبارک سے نکلے اس کو یاد کرلوں اور چونکہ سوال سے بچتے تھے کئی کئی وقت کا فاقہ ہو جا تا لیکن ہر حال میں شاکر تھے اور آستانہ مبارک کو نہ چھوڑتے تھے ) ایک دن ایسے ہوا کہ میں اس راستہ پر بیٹھ گیا جس پر سے صحابہ گذر کر اپنے کاروبار کے لئے جاتے تھے،اتنے میں (حضرت) ابوبکر گزرے پس میں نے ان سے قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور میں نے یہ آیت ان سے اس لئے نہ پوچھی تھی کہ وہ مجھے اس کے معنی بتا ئیں بلکہ اصل غرض میری یہ تھی کہ شاید ان کی توجہ میری طرف ہو اور میرا پیٹ بھر دیں لیکن انہوں نے معنی بتائے اور آگے چل دیئے ، مجھے کچھ کھلایا نہیں۔ان کے بعد ( حضرت عمر گزرے۔میں نے ان سے بھی قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور وہ آیت بھی مجھکو آتی تھی میری اصل غرض یہی تھی کہ وہ مجھے کچھ کھلا ئیں مگر وہ بھی اسی طرح گزر گئے اور مجھے کچھ نہ کھلا یا۔پھر وہاں سے ابوالقاسم سلام ( یعنی آنحضرت فداہ نفسی ) گزرے آپ نے جو نہی مجھے دیکھا مسکرا دیئے اور جو کچھ میرے جی میں تھا اور جو میرے چہرہ سے عیاں تھا ( یعنی بھوک کے آثار ) اس کو پہچان لیا پھر فر ما یا ابو ہریرہ ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں ارشادفرمائیے، فرمایا میرے ساتھ چلے آؤ۔پس میں آپ کے پیچھے چل پڑا آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میرے لئے اجازت مانگی پھر مجھ کو اندر آنے کی اجازت دی۔پھر آپ اندر کمرہ میں تشریف 234