سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 226

کے احسانات کو بھی بہت سے لوگ بھلا دیتے ہیں۔اور یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا اپنی محبت سے مجبور ہو کر یا اپنا فرض خیال کر کے کیا ہمیں اب کیا ضرورت ہے کہ خوامخواہ ان کی خبر گیری کرتے پھریں۔لیکن ہمارے آنحضرت صلی یتیم کا حال دنیا سے بالکل مختلف تھا۔آپ پر جب کوئی شخص احسان کر تا تو آپ اسے ہمیشہ یادر کھتے تھے اور کبھی فراموش نہ کرتے تھے۔اور ہمیشہ آپ کی کوشش رہتی تھی کہ جس نے آپ پر کبھی کوئی احسان کیا ہو۔اسےاس کے احسان سے بڑھ کر بدلہ دیں۔یوں تو آپ کا اپنے رشتہ داروں ، دوستوں ،مریدوں، خادموں اور ہم وطنوں سے سلوک شروع سے آخر تک ہمارے اس دعوے کی تصدیق کر رہا ہے لیکن ہم اسے واضح کرنے لئے ایک مثال بھی دے دیتے ہیں۔جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اپنے محسن کے احسان کا کس قدر خیال رہتا تھا اور کس طرح اسے یادر کھتے تھے۔بدر کی جنگ کے نام سے کون سا مسلمان ناواقف ہوگا یہی وہ جنگ ہے جس کا نام قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرقان رکھا ہے اور یہی وہ جنگ ہے جس میں عرب کے وہ سردار جو اس دعوی کے ساتھ گھر سے چلے تھے کہ اسلام کا نام ہمیشہ کے لئے مٹادیں گے خود مٹ گئے اور ایسے مئے کہ آج ان کا نام لیوا کوئی باقی نہیں۔اور اگر کوئی ہے تو اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنا بجائے فخر کے عارخیال کرتا ہے۔غرضیکہ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی تھی اور بہت سے کفار قید بھی ہوئے تھے۔وہ لوگ جو گھر سے اس ارادہ سے نکلے تھے کہ آنحضرت سلایا کہ ہم اور آپ کے اتباع کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر دیں گے۔اور جن کے دل میں رحم کا خیال تک بھی نہ تھا ان سے جس قدر بھی سختی کی جاتی اور جو سزائیں بھی ان کے لئے تجویز کی جاتیں بالکل روا اور مناسب 226