سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 225

بھی صحابہ کو دی۔یعنی انہیں منع فرما دیا کہ جس کام کو آخر تک نباہنا مشکل ہو اس پر اپنی خوشی سے ہاتھ مت ڈالو کہ اس طرح رفتہ رفتہ بے استقلالی کی عادت تم میں پیدا نہ ہو جائے۔۲- اس شہادت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ خود بھی اس تعلیم پر عمل پیرا تھے۔اور اس عبادت کو پسند فرماتے جس پر دوام ہوسکتا ہو۔خواہ وہ تھوڑی ہی ہو۔اور اس طرح اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتے۔کہ آپ کسی کام میں خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا۔استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔۳۔تیسرے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ نہ صرف عام کاموں میں بلکہ عبادت میں بھی آپ استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور یہ ایک خاص بات ہے۔کیونکہ استقلال یا بے استقلالی کا اظہار عام کاموں میں ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص ایک دن خاص اثر اور جوش کے ماتحت خاص طور پر عبادت کرے۔اور دوسرے دن نہ کرے۔تو اس کا ایسا کرنا بے استقلالی نہیں کہلا سکتا۔لیکن آنحضرت مالی سال ہی تم اس صفت میں ایسے کامل تھے کہ آپ عبادت میں بھی یہ پسند نہ فرماتے کہ ایک دن ایک عبادت کر کے دوسرے دن چھوڑ دیں۔بلکہ جب ایک عبادت ایک دن کرتے تو دوسرے دن پھر کرتے تا کہ اس کے ترک سے طبیعت میں بے استقلالی نہ پیدا ہو اور یہ بات آپ کے استقلال پر خاص روشنی ڈالتی ہے۔طہارۃ النفس۔احسان کی قدر :- دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اس بات کے تو طالب رہتے ہیں کہ دوسرے ان پر احسان کریں لیکن اس بات کا ان کے دل میں خیال بھی نہیں آتا کہ جن لوگوں نے ان پر احسان کیا ہے ان کے احسانات کو یا درکھ کر ان کا بدلہ بھی دیں۔ایک دو احسانات کا یا درکھنا تو الگ رہا والدین جن کے احسانات کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ان 225