سیرت النبی ؐ — Page 222
کر کے بھی دکھا دیا۔مگر افسوس ! کہ اب مسلمانوں میں وہ روح کام نہیں کرتی۔ہم نے مختصراً آنحضرت سلیم کی زندگی سے ثابت کیا تھا کہ آپ میں استقلال کا مادہ ایسے درجہ تک پایا جاتا تھا۔کہ اس کی نظیر دنیا میں ملنی مشکل ہے۔اب ہم اسی مضمون کو ایک اور پیرایہ میں بیان کر کے آپ کے استقلال کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔جن لوگوں نے انسان کے اخلاق کا وسیع مطالعہ کیا ہے اور اس کی مختلف شاخوں پر نظر امعان ڈالی ہے وہ جانتے ہیں کہ عوام میں جو اخلاق مشہور ہیں ان سے بہت زیادہ اخلاق انسان میں پائے جاتے ہیں۔لیکن قلت تد بر یا اخلاق کی کثرت کی وجہ سے یا تو سب اخلاق ابتداء میں معلوم نہیں ہو سکے یا یہ کہ ان میں سے ایک قسم کے اخلاق کا نام ایک ہی رکھ دیا گیا ہے۔اور اخلاق کی چند انواع مقرر کر کے ان کے نام رکھ دیئے گئے ہیں۔اور آگے ان کی شناخت اسماء کی بجائے تعریف ہی کافی سمجھ لی گئی ہے۔استقلال جو ایک نہایت مفید اور دوسرے اخلاق کو چمکا دینے والا خلق ہے، اس کی بھی کئی اقسام ہیں جن کا نام لغت میں موجود نہیں۔بلکہ سب اقسام کو استقلال کے نام سے ہی یاد کیا جا تا ہے لیکن انسانی اخلاق کا وسیع مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ بات واضح طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ اس خلق کی بھی کئی قسمیں ہیں۔جن میں سے دو بڑی قسمیں یہ ہیں کہ ایک استقلال وہ ہوتا ہے جس کا ظہور بڑے کاموں میں ہوتا ہے اور دوسرا وہ جس کا ظہور چھوٹے کاموں میں ہوتا ہے چنانچہ انسانوں میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں بعض ایسے ہیں کہ اہم اور وسیع الاثر معاملات میں جب وہ لگ جاتے ہیں تو گوان کے راستہ میں خطر ناک سے خطر ناک مصائب پیش آئیں وہ اپنے کام سے دست برداری نہیں کرتے اور کل دنیا کی مخالفت کے باوجود اپنا کام کئے جاتے 222