سیرت النبی ؐ — Page 221
اس کے جوش کو کم کر سکے نہ ایران کے مجوسی اس کو سست کر سکے اور نہ مدینہ اور خیبر کے یہود اس کی راہ میں روک بن سکے۔ہر ایک دشمنی ، ہر ایک عداوت ، ہر ایک مخالفت ، ہر ایک تکلیف کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا اور ایک منٹ کے لئے بھی اس نے اپنی آواز نیچی نہ کی۔حتی کہ وفات کے وقت بھی یہی نصیحت کرتا گیا کہ دیکھنا خدا تعالیٰ کا شریک کسی کو نہ بنانا اور وہ وحدہ لاشریک ہے کوئی چیز اس کے برابر نہیں حتی کہ سب انسانوں سے افضل محمد ایلیا ایم بھی اس کا ایک بندہ اور رسول ہے۔اس کی قبر کو بھی دوسری قوموں کے دستور کے مطابق مسجد نہ بنا لینا۔کیا اس استقلال کا نمونہ دنیا میں کسی اور انسان نے بھی دکھایا ہے؟ کیا ایسے مخالفانہ حالات کے مقابلہ پر ایسا فولادی عزم کسی نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔لوگ ذرا ذرا سا کام کر کے تھک جاتے ہیں اور تھوڑی سی تکلیف دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں بلکہ بغیر تکلیف کے بھی کسی کام پر اس قدر عرصہ تک متواتر توجہ نہیں کر سکتے جس کا نمونہ آنحضرت سالی پی ایم نے دکھایا اور جس نمونہ کو دیکھ کر نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جس کام کو اپنے ذمہ لیا تھا اس کی خوبی اور بہتری پر دل سے یقین رکھتے تھے۔کیونکہ اس قدر لمبے عرصہ تک باوجود اس قدر تکالیف کے کوئی انسان ایک ایسے امر پر جسے وہ جھوٹا خیال کرتا ہو قائم نہیں رہ سکتا۔بلکہ یہ بھی کھل جاتا ہے کہ وہ کونسی طاقت تھی جس سے کام لے کر آپ نے ایسی جماعت پیدا کر دی تھی۔جس نے باوجود قلت تعداد کے سب دنیا کو فتح کرلیا تھاوہ آپ کا استقلال اور آپ کا عمل ہی تھا۔جس نے ان مٹھی بھر آدمیوں کو جو آپ کی صحبت میں رہنے والے تھے کل دنیا کی اصلاح کے کام کے اختیار کرنے کی جرات دلائی اور صرف جرأت ہی نہیں دلائی بلکہ آخر دم تک ایسا آمادہ کئے رکھا کہ انہوں نے دنیا کی اصلاح کا کام 221