سیرت النبی ؐ — Page 213
وَاَجَلُ الله أغلى وأجل یعنی تمہارے کھیل میں کیا طاقت ہے وہ تو ایک بناوٹی چیز ہے اللہ ہی ہے جو سب چیزوں سے بلند رتبہ اور عظیم القدر ہے۔اور پھر جب اس نے کہا کہ لنا غری وَلَا عَزَّى لَكُمْ تو آپ نے پھر صحابہ سے فرمایا کہ جواب دو۔انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا جواب دیں تو آپ نے فرما یا کہ کہو لنا مَوْلى وَلَا مَوْلى لَكُمْ خدا تعالیٰ ہمارا دوست و مددگار ہے۔اور تمہارا مددگار کوئی نہیں۔یعنی عزئی میں کچھ طاقت نہیں طاقت تو اللہ تعالیٰ میں ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے۔پس اس واقعہ سے صاف کھل جاتا ہے کہ حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی ایتم کے اخلاق کے متعلق جو گواہی دی ہے وہ صرف ان کا خیال ہی نہیں بلکہ واقعات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں اور تاریخی ثبوت اس کی سچائی کی شہادت دیتے ہیں۔اور آنحضرت صلی سیلم کی زندگی پر غور کرنے سے ایک موٹی سے موٹی عقل کا انسان بھی اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ آپ کا تحمل کسی صفت حسنہ کے فقدان کا نتیجہ نہ تھا بلکہ اس کا باعث آپ کے وہ اعلیٰ اخلاق تھے جن کی نظیر دنیا میں کسی زمانہ کے لوگوں میں بھی نہیں ملتی۔اور یہ کہ گو یا تحمل اپنے کمال کے درجہ کو پہنچا ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی مقرر کر دہ حرمات کا سوال جب درمیان میں آجاتا ہے تو اس وقت آنحضرت سلیم ہرگز در گذر سے کام نہ لیتے۔بلکہ جس قدر جلد ممکن ہو تا مناسب تدارک فرما دیتے اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے قائم کرنے میں ہرگز دیر نہ فرماتے۔پس آپ کا تحمل ایک طرف تو بے نظیر تھا اور دوسری طرف بالا رادہ تھا اور پھر آپ کی اس صفت کا اظہار کبھی بے موقعہ نہیں ہوتا تھا جیسا کہ آج کل کے زمانہ کا حال ہے کہ اپنے نفس کے معاملہ میں تو لوگ ذرا ذراسی بات میں جوش میں آجاتے ہیں۔لیکن جب خدا اور اس کے دین کا معاملہ آتا ہے تو صبر وقتل کی تعلیم وتلقین کرتے ہوئے ان کے ہونٹ خشک ہوئے جاتے ہیں۔اور وہ نہیں جانتے کہ تحمل صرف ذاتی تکلیف اور 213