سیرت النبی ؐ — Page 212
غضب آپ میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا بلکہ جب اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں کی ہتک اور بے حرمتی کا سوال پیدا ہوتا تو آپ ضرور انتقام لیتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا متحمل کسی پیدائشی کمزوری یا نقص کا نتیجہ نہ تھا بلکہ آپ اپنے اخلاق کی وجہ سے اپنے نفس کے قصور واروں سے چشم پوشی کر جاتے تھے۔اور اظہار ناراضگی سے اجتناب کرتے تھے۔اور جو کچھ کہنا بھی ہوتا تھا تو نہایت آہستگی اور نرمی سے کہتے تھے اور ایسا جواب دیتے تھے جس میں بجائے ناراضگی اور غضب کے اظہار کے اس شخص کے لئے کوئی مفید سبق ہوجس سے وہ اپنی آئند و زندگی میں اپنے چال چلن کی اصلاح کر سکے۔اور یہی تحمل کا اعلیٰ نمونہ ہے۔یہ بھی یا درکھنا چاہیئے کہ حضرت عائشہ کی یہ شہادت بلا دلیل نہیں ہے بلکہ واقعات بھی اس کی شہادت دیتے ہیں چنانچہ بخاری کی ایک حدیث سے ظاہر ہے جسے مفصل ہم پہلے کسی اور جگہ لکھ آئے ہیں کہ جنگ احد میں جب عام طور پر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ آنحضرت صلی تم شہید ہو گئے ہیں اور کفار مکہ علی الاعلان اپنی اس کامیابی پر فخر کرنے لگے اور ان کے سردار نے بڑے زور سے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد (صلی ا تم ) ہے جس سے اس کی مراد یہ بتانا تھا کہ ہم آپ کو مار چکے ہیں اور آپ دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں مگر آنحضرت ا الیہ امام نے اپنے اصحاب کو فر مایا کوئی جواب نہ دیں۔اور اس طرح اس کا جھوٹا فخر پورا ہونے دیا۔اور یہ نہیں کہا کہ غضب میں آکر اسے کہتے کہ میں تو زندہ موجود ہوں یہ بات کہ تم نے مجھے قتل کر دیا ہے بالکل جھوٹ اور باطل ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔ہاں جب ابوسفیان نے یہ کہا کہ اغل قبل اغل قبل کیبل بت کی شان بلند ہو۔ٹھبل بت کی شان بلند ہو تو اس وقت آپ خاموش نہ رہ سکے اور صحا بہ کو فر ما یا کہ کیوں جواب نہیں دیتے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی شیا کی تم کیا جواب دیں۔فرما یا اسے کہو کہ اللہ اغلی 212