سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 211

اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب آنحضرت صلی یا اسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو کاموں کا اختیار دیا جاتا کہ آپ جو چاہیں کریں تو آپ ان دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے ( کیونکہ بندہ کا یہی حق ہے کہ اپنے آپ کو ہمیشہ زائد بوجھوں سے بچائے تا ایسانہ ہو کہ اپنے آپ کو کسی مصیبت میں گرفتار کر دے) لیکن اگر کبھی آپ دیکھتے کہ ایک آسان بات کو اختیار کر کے کسی وجہ سے کسی گناہ کا قرب ہو جائے گا۔تو پھر آپ کبھی اس آسان کو اختیار نہ کرتے بلکہ مشکل سے مشکل امر کو اختیار کر لیتے مگر اس آسان کے قریب نہ جاتے ( اور یہی اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا کام ہے کہ وہ گناہ سے بہت دور بھاگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے میں کسی سختی یا کسی مشکل کے برداشت کرنے سے نہیں گھبراتے ) پھر فرماتی ہیں کہ آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ آپ اپنے نفس کے لئے کبھی انتقام نہ لیتے یعنی خلاف منشا امور کو دیکھ کر جب تک وہ خاص آپ کی ذات کے متعلق ہوتے تحمل سے ہی کام لیتے۔خفگی، ناراضگی یا غضب کا اظہار نہ فرماتے نہ سزا دینے کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ہاں جب آپ کی ذات کے متعلق کوئی امر نہ ہو بلکہ اس کا اثر دین پر پڑتا ہو اور کسی دینی مسئلہ کی ہتک ہوتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان پر کوئی دھبہ لگتا ہو۔تو آپ اس وقت تک صبر نہ کرتے۔جب تک اس کا انتقام لے کر اللہ تعالیٰ کے جلال کو ظاہر نہ فرما لیتے اور شریر انسان کو جو ہتک حرمہ اللہ کا مرتکب ہوا ہو سزا نہ دے لیتے۔اس واقعہ سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپ کا عمل اس درجہ تک پہنچا ہوا تھا کہ آپ کبھی بھی اپنے نفس کے لئے جوش کا اظہار نہ فرماتے بلکہ تحمل اور بردباری سے ہی ہمیشہ کام لیتے۔لیکن یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات قطعاً درست نہیں کہ آپ میں جوش و انتقام کی صفت پائی ہی نہ جاتی تھی اور آپ پیدائش سے ہی ایسے نرم مزاج واقع ہوئے تھے کہ (211)