سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 210

جبکہ اس قدر طاقت اور قدرت اور ایسے ایسے جوش دلانے والے مواقع پیدا ہو جانے کے باوجود آپ اس طرح ہنس کر بات ٹال دیتے تھے اور کیوں نہ خیال کر لیا جائے کہ آپ بھی پیدا ئشا ایسے ہی نرم مزاج پیدا ہوئے تھے۔اور فطرتاً آپ مجبور تھے کہ ایسے ایذاء دہندوں کے اعمال پر ہنس کر ہی خاموش ہو رہتے کیونکہ آپ کے اندر انتقام کا مادہ اور بری اور بھلی بات میں تمیز کی صفت موجود ہی نہ تھی۔(نعوذ باللہ من ذالک) یہ سوال بالکل درست اور بجا ہے۔اور ایک محقق کا حق ہے کہ وہ ہم سے اس کی وجہ دریافت کرے کہ کیوں ہم آپ کو ایک خاص گروہ میں شامل کرتے ہیں اور دوسرے سے نکالتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا بھی جواب دیں کیونکہ اس سوال کا جواب دیئے بغیر آنحضرت سلیم کی سیرت کا ایک پہلو نامکمل رہ جاتا ہے۔اور آپ جیسے مکمل انسان کی زندگی کا کوئی پہلو نہیں جو نا مکمل ہو پس اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی پیش کرتے ہیں جو آپ کی ازواج مطہرات سے تھیں۔اور آپ کے اخلاق کی کماحقہ واقف تھیں۔صحیح بخاری میں آپ سے روایت ہے کہ مَا خَيْرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنَ إِلَّا أَخَذَا أَيْسَرَ هُمَا مَالَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةَ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بھا۔( بخاری کتاب المناقب باب صفة النبی ) یعنی آنحضرت صلای شما ایام کو جب کبھی دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تھا تو آپ دونوں میں سے آسان کو اختیار کر لیتے تھے جب تک کہ گناہ نہ ہو۔اور جب کوئی گناہ کا کام ہوتا تو آپ اس سے سب لوگوں سے زیادہ دور بھاگتے۔اور آپ کبھی اپنے نفس کے لئے انتقام نہ لیتے تھے مگر یہ کہ اللہ تعالی کی مقرر کردہ حرمتوں میں سے کسی کی بے حرمتی کی جاتی تھی تو آپ خدا کے لئے اس بے حرمتی کا بدلہ لیتے تھے۔210