سیرت النبی ؐ — Page 206
کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کی رگڑ کے ساتھ آپ کی گردن پر خراش ہو گئی۔اس کے بعد اس نے کہا کہ آپ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی دلوائیں پس آپ نے مڑکر اس کی طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا کہ اسے کچھ دے دو۔اس مثال سے آپ کا تحمل پہلی مثال سے بھی زیادہ ظاہر ہوتا ہے پہلی مثال سے تو یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آپ کے پاس کچھ تھانہیں اور کچھ سائل آپ سے بار بارانعام طلب کر تے تھے اور جبکہ آپ انکار فرما رہے تھے کہ میرے پاس کچھ نہیں اور وہ لینے پر مصر تھے۔ان لوگوں کا آپ پر زور کرنا سمجھ میں آسکتا ہے اور خیال ہو سکتا ہے کہ چونکہ وہ لوگ سخت محتاج تھے اور ان کی حالت زار تھی۔اور نا امیدی میں انسان کے حواس ٹھکانے نہیں رہتے اس لئے ان کی زیادتی پر آپ جیسے رحیم انسان کا تحمل کرنا کچھ تجبات سے نہ تھا لیکن دوسرا واقعہ اس واقعہ سے بہت زیادہ آپ کے تحمل پر روشنی ڈالتا ہے کیونکہ اس شخص نے بغیر سوال کے آپ پر حملہ کر دیا اور اس حملہ کی کوئی وجہ نہ تھی نہ اس نے سوال کیا تھا نہ آپ نے انکار فرمایا تھا نہ اسے کوئی ناامیدی پیش آئی تھی۔مال سامنے موجود تھا آپ دینے کو تیار تھے پھر بلا وجہ اس طرح گستاخی سے پیش آنا ایک نہایت ہی ناشائستہ حرکت تھی اور اس کے سوال پر اسے ڈانٹنا چاہئے تھا۔اور پھر اس نے جو طریق اختیار کیا تھا وہ صرف گستاخانہ ہی نہ تھا کہ یہ خیال کرلیا جاتا کہ چلو اس سے کوئی حقیقی نقصان تو ہو انہیں جاہل آدمی ہے اور جنگلی ہے اور آداب رسول سے ناواقف ہے۔اسے معاف ہی کر دینا بہتر ہوگا بلکہ وہ ایذاء رسانی کا طریق تھا اور اس کی اس حرکت سے آنحضرت صلی ایتم کو سخت تکلیف بھی پہنچی اور گردن مبارک پر خراش بھی ہوگئی بلکہ اس حدیث کو حمام نے اس طرح روایت کیا ہے کہ چادر پھٹ گئی اور اس کا حاشیہ چمڑہ کو پھاڑ تا ہوا گوشت تک گھس گیا پس وہ شخص اس بات کا پورے طور پر مستحق 206