سیرت النبی ؐ — Page 205
کہ تمہیں یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ میں بخیل نہیں ہوں اور یہ بھی کہ جھوٹا نہیں ہوں کہ جھوٹ بول کر سب مال یا اس کا بعض حصہ اپنے لئے بچالوں اور نہ مجھے بزدل پاتے۔یعنی میرا تمہیں مال دینا اس وجہ سے نہ ہوتا کہ میں تم لوگوں سے ڈر جاتا کہ کہیں مجھے نقصان نہ پہنچاؤ لیکن میں جو مال دیتا دل کی خوشی سے دیتا۔شاید کوئی شخص کہے کہ آپ کے اتنا کہ دینے سے کیا بنتا ہے کہ اگر میرے پاس ہوتا تو میں دے دیتا کیا معلوم ہے کہ آپ اس وقت دیتے یا نہ دیتے۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مقام دارد۔میں اس جگہ یہ بتا رہا ہوں کہ آنحضرت سال یا اسلام کا تحمل کیسا تھا اور کس طرح آپ نا پسند اور مکر وہ باتیں سن کر نرمی اور ملائمت سے جواب دیتے تھے۔اور خفگی اور ناراضگی کا اظہار قطعانہ فرماتے بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا معترض کو کوئی نیک بات بتا کر خاموش فرما دیتے۔آپ کی سخاوت کا ذکر تو دوسری جگہ ہوگا۔اور اگر کوئی بہت مصر ہو تو میں آپ کے تحمل کی ایسی مثال بھی جس میں ایک طرف آپ نے تحمل فرمایا ہے اور دوسری طرف سخاوت کا اظہار فرمایا ہے دے سکتا ہوں اور وہ بھی صحیح بخاری سے ہے۔اور وہ یہ کہ انس بن مالک بیان فرماتے ہیں کہ كُنتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ عَلَيْهِ بُرْدْ نَجْرَانِيْ غَلِيظَ الْحَاشِيةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِي فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى نَظْرَتْ إِلى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثْرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ ثُمَّ قَالَ : مُزلِى مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِندَكَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ۔( بخاری کتاب الجہاد باب ما كان النبي يعطى المؤلفة قلوبهم) یعنی میں ایک دفعہ آنحضرت سلیسیا ایلم کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ نے ایک نجران کی بنی ہوئی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کے کنارے بہت موٹے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آپ کے قریب آیا اور آپ کو بڑی سختی سے کھینچنے لگا۔یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس 205