سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 204

زور ڈال رہے تھے۔اور باتوں سے ہی آپ سے کچھ وصول نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ جب ناامیدی ہو گئی تو آپ کو پکڑ کر اصرار کرنا شروع کیا کہ ہمیں ضرور کچھ دیں۔اور آپ ان سے ہٹتے ہٹتے راستہ سے اس قدر دور ہو گئے کہ آخر آپ کی چادر کانٹے دار درختوں میں جا پھنسی۔اور اس وقت آپ نے ان کو ان محبت آمیز الفاظ میں ملامت کی کہ میں انکار بخل کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مجبوری سے کہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں ضرور تم کو دے دیتا حتی کہ سامنے کھڑے ہوئے درختوں کے برابر بھی اگر اونٹ میرے پاس ہوتے تو سب تم کو دے دیتا۔اور ہرگز بخل نہ کرتا نہ جھوٹ بولتا نہ بزدلی دکھاتا۔دنیا کا کوئی بادشاہ ایسا جواب نہیں دے سکتا وہ جوا اپنی عزت اور اپنی بڑائی کے طلب گار ہوتے ہیں۔وہ اس قدر متحمل نہیں کر سکتے۔آنحضرت مالی ایتم کی حیثیت کے انسان کا ایسے موقعہ پر جب آپ سے ان اعراب نے اس درشتی سے سلوک کیا تھا مذکورہ بالا جواب دینا اپنی نظیر آپ ہی ہے۔اور دنیا کا کوئی بادشاہ کوئی حاکم کوئی سردار اس تحمل کی نظیر نہیں دکھا سکتا۔پھر آپ جو جواب دیتے ہیں وہ کیسا لطیف ہے۔فرماتے ہیں۔۔۔کہ اگر ان درختوں کے برا بر بھی اونٹ ہوتے تو میں تمہیں دے دیتا۔اور تم مجھے بخیل جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔ایک موٹی نظر والے انسان کو تو شاید یہ تین الفاظ بے ربط معلوم ہوں لیکن دانا انسان سمجھتا ہے کہ یہ تینوں الفاظ جو آپ نے فرمائے بالکل موقعہ کے مطابق تھے۔اور ان سے بہتر لفظ اور ہو ہی نہیں سکتے تھے۔کیونکہ مال کا نہ دینا بخل سے متعلق ہے۔پس آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو تم مجھے بھیل نہ پاتے یعنی تمہیں معلوم ہو جا تا کہ میں بخیل نہیں کیونکہ میں تمہیں مال دے دیتا اور جھوٹا بھی نہ پاتے۔یہ اس لئے فرمایا کہ بعض لوگ جھوٹ بول کر سائل سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ ہے نہیں۔پس فرمایا 204