سیرت النبی ؐ — Page 202
بھی لغو نہ تھا اگر آپ خاموش رہتے تو اس کے اعتراض کا جواب کیا ہوتا آپ نے تحمل کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا اور اس نمونہ جو کہ اپنے اندر ایک عظیم الشان سبق بھی رکھتا تھا اور معترضین کے لئے ہدایت تھا۔کاش ! اس حدیث سے وہ لوگ کچھ نصیحت حاصل کریں جو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے پھر اعتراضات سے نہیں رکھتے کیونکہ ان کو یا درکھنا چاہئے کہ ان کا یہ فعل خودان کی شقاوت پر دال ہے۔اب ایک اور مثال درج کرتا ہوں۔جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ: أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلًا مِنْ حَنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْتَا لُوْنَهُ حَتَّى اضْطَرُوْهُ إِلَىٰ سَمْرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَعْطُوْنِيْ رِدَائِي فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاءِ نَعَمَّا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِي بَخِيْلًا وَلَا كَذَوْبًا وَلَا جَبَانًا ( بخاری کتاب الجہاد باب ما كان النبی ﷺ علی المؤلفة قلوبھم ) ایک دفعہ وہ آنحضرت صلی ایلم کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ اور بھی لوگ تھے۔آپ حسنین سے واپس تشریف لا رہے تھے۔راستہ میں کچھ بادیہ نشین عرب آگئے۔اور آپ کے پیچھے پڑگئے اور آپ سے سوال کرنے لگے۔اور آپ پر اس قدر زور ڈالا کہ ہٹاتے ہٹاتے کیکر کے درخت تک لے گئے۔جس سے آپ کی چادر پھنس گئی۔پس آپ ٹھہر گئے اور فرمایا کہ میری چادر مجھے پکڑا دو۔اگر ان کانٹے دار درختوں کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوتے ( یعنی بہت کثرت سے ہوتے ) تو بھی میں سب تم میں تقسیم کر دیتا اور تم مجھ کو بخیل اور جھوٹا اور بزدل نہ پاتے اللہ اللہ یہ وہ شخص ہے جسے ناپاک طبع انسان دنیا طلب کہتے ہیں۔اور طرح طرح کے ناپاک الزم لگاتے ہیں یہ وہ انسان ہے جسے اندھی دنیا مغلوب الغضب کہتی ہے یہ وہ وجود ہے جسے ظالم انسان ظالم قرار دیتے 202