سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 197

دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کو اس تعلیم پر کامل یقین تھا جو آپ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے اور ایک منٹ کے لئے بھی آپ اس پر شک نہیں کرتے تھے اور جیسا کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ نعوذباللہ دنیا کو الو بنانے کے لئے اور اپنی حکومت جمانے کے لئے آپ نے یہ سب کا خانہ بنایا تھا ور نہ آپ کو کوئی وحی نہ آتی تھی۔یہ بات نہ تھی۔بلکہ آپ کو اپنے رسول اور خدا کے مامور ہونے پر ایسا ملج قلب عطا تھا کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔کیونکہ ممکن ہے کہ لوگوں میں آپ بناوٹ سے کام لے کر اپنی سچائی کو ثابت کرتے ہوں لیکن یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ رات کے وقت ایک شخص خاص طور پر اپنی بیٹی اور داماد کے پاس جائے اور ان سے دریافت کرے کہ کیا وہ اس عبادت کو بھی بجالاتے ہیں جو اس نے فرض نہیں کی بلکہ اس کا ادا کرنا مؤمنوں کے اپنے حالات پر چھوڑ دیا ہے اور جو آدھی رات کے وقت اٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔اس وقت آپ کا جانا اور اپنی بیٹی اور داماد کو ترغیب دینا کہ وہ تہجد بھی ادا کیا کریں اس کامل یقین پر دلالت کرتا ہے جو آپ کو اس تعلیم پر تھا جس پر آپ لوگوں کو چلانا چاہتے تھے ورنہ ایک مفتری انسان جو جانتا ہو کہ ایک تعلیم پر چلنا ایک سا ہے اپنی اولا د کو ایسے پوشیدہ وقت میں اس تعلیم پر عمل کرنے کی نصیحت نہیں کر سکتا یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ایک آدمی کے دل میں یقین ہو کہ اس تعلیم پر چلے بغیر کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔تیسری بات وہی ہے جس کے ثابت کرنے کے لئے میں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت ہر ایک بات کے سمجھانے کے لئے تحمل سے کام لیا کرتے تھے اور بجائے لڑنے کے محبت اور پیار سے کسی کو اس کی غلطی پر آگاہ فرماتے تھے۔چنانچہ اس موقع پر جب حضرت علی نے آپ کے سوال کو اس طرح رد کرنا چاہا کہ جب ہم سو جا ئیں تو ہما کیا اختیار 197