سیرت النبی ؐ — Page 192
آپ نے فرمایا کہ ہم چند آدمی جو اشعری قبیلہ کے تھے۔نبی کریم صلی یہ نیم کے پاس آئے اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔آپ نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے میں نہیں دے سکتا۔ہم نے پھر عرض کیا کہ ہمیں سواری دی جاوے تو آپ نے قسم کھالی کہ ہمیں سواری نہ دیں گے پھر کچھ زیادہ دیر نہ لی تھی کہ نبی کریم سی تمنا ہی ہم کے پاس کچھ اونٹ لائے گئے پس آپ نے حکم دیا کہ ہمیں پانچ اونٹ دیئے جاویں۔پس جب ہم نے وہ اونٹ لے لئے ہم نے آپس میں کہا کہ ہم نے تو آنحضرت صلی ا یہ تم کو دھوکا دیا ہے اور آپ کو آپ کی قسم یاد نہیں دلائی ہم اس کے بعد کبھی مظفر و منصور نہ ہوں گے اس خوف سے میں آنحضرت مسلہ یہ تم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یارسول اللہ آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ ہمیں سواری نہ دیں گے اور اب تو آپ نے ہمیں سواری دے دی ہے۔فرمایا ہاں اسی طرح ہوا ہے میں کوئی قسم نہیں کھا تا لیکن جب اس کے سوا کوئی اور بات بہتر دیکھتا ہوں تو وہ بات اختیار کر لیتا ہوں جو بہتر ہو۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلی یتیم کا مقصود کیا تھا آپ کے کام کسی دنیاوی مصلحت یا ارادہ کے ماتحت نہ ہوتے تھے بلکہ آپ اپنے ہر کام میں یہ بات مدنظر رکھتے تھے کہ جو کچھ آپ کرتے ہیں وہ واقعہ میں نفع رساں بھی ہے یا نہیں اور اگر کبھی معلوم ہو جائے کہ آپ نے کوئی ایسا کام کیا ہے یا اس کے کرنے کا ارادہ کیا ہے جو کسی انسان کے لئے مضر ہوگا یا اسے اس سے تکلیف ہوگی تو آپ فوراً اپنے پہلے حکم کو واپس لے لیتے اور وہی بات کرتے جو بہتر اور نفع رساں ہوتی۔ایک ظاہر بین انسان کہہ سکتا ہے کہ اس سے رعب و داب میں فرق آتا ہے اور حکومت کو نقصان پہنچتا ہے مگر اس بات سے تو آپ کی خوبی اور نیکی کا پتہ چلتا ہے کہ خواہ کوئی امرکیسا 192