سیرت النبی ؐ — Page 191
موقع پیش نہیں آیا اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔اور در حقیقت بظاہر دنیاوی نقطۂ خیال سے یہ بات ہے بھی درست کیونکہ جب رعایا کے دل میں یہ بیٹھ جائے کہ ہم جس طرح چاہیں کراسکتے ہیں یا ان کو یہ خیال ہو جائے کہ ہمارا حاکم تو بالکل غیر مستقل مزاج آدمی ہے اسے جس طرح چاہیں پھیر دیں تو وہ بہت دلیر اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں سست ہو جاتی ہے اور اسی وجہ سے رِجالِ سیاست نے اس بات کو بہت پسند کیا ہے کہ حاکم اپنے فیصلہ کو بہت جلدی واپس نہ لے بلکہ حتی الامکان اس پر قائم رہے۔ہمارے آنحضرت صلی لایم جس پاک فطرت کو لے کر پیدا ہوئے اور جن کمالات کو آپ نے حاصل کیا تھا وہ چاہتے تھے کہ آپ ہمیشہ خیر اختیار کریں ایک دنیاوی بادشاہ یا حاکم اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ میں اپنے ایام حکومت میں حکومت کے رعب کو قائم رکھتا رہا ہوں اور ایک مضبوط ارادہ کے ساتھ نظام حکومت چلا تا رہا ہوں مگر میرے اس پیارے کا یہ فخر نہ تھا کہ میں نے جو کچھ کہ دیا اس پر پابند رہا ہوں بلکہ اس کا فخر یہ تھا کہ میں نے جب عمل کیا خیر پر کیا اور جب مجھے معلوم ہوا کہ میں فلاں رنگ میں کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں میں نے اس کے پہنچانے میں کوتاہی نہیں کی پس اگر روحانیت کی دنیا میں کوئی شخص قابل اتباع ہوسکتا ہے تو وہ آنحضرت سلی یا ریتم ہی ہو سکتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: إِنَّا آتَيْنَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرَ مِنَ الْأَشْعَرِ بَيْنَ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَأَبِي أَنْ يَحْمِلَنَا، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَحَلَفَ أنْ لا يَحْمِلَنَاثُمَ لَمْ يَلْبَثِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتِيَ بِنَهْبٍ ايل فَأَمَرَلَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ فَلَمَّا قَبَضْنَا هَا قُلْنَا : تَغَفَلْنَا النَّبِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِيْنَهُ لَا نُفْلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا فَآتَيْتَةً فَقُلْتُ: يَارَسُوْلَ اللهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَقَدْ حَمَلْتَنَا؟ قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِيْنِ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا ( بخاری کتاب المغازی باب قدوم الاشعريين واهل اليمن) 191