سیرت النبی ؐ — Page 190
ہمیشہ خیر اختیار کرتے :- آنحضرت سلی یا تم بھی ضد سے کام نہ لیتے تھے بلکہ جس بات میں خیر دیکھتے اس کو اختیار کرتے تھے اور قطعاً اس بات کی پرواہ نہ کرتے کہ اس سے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں ہوتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ رجال سیات دنیویہ نے اپنے اصولوں میں سے ایک یہ اصل بھی بنا رکھی ہے کہ بادشاہ یا حاکم جو حکم دے دے اور جو فیصلہ کر دے اس میں تغیر نہ کرے اور جس طرح کیا ہے اس پر قائم رہے تا کہ لوگوں کے دل میں یہ نہ خیال پیدا ہو کہ ہم نے ڈرا کر منوالیا ہے یا کم سے کم دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ ایک بات کہ کر پھر اس سے رجوع کر لیا ہے اور اس اصل پر رِجالِ سیاست ایسے پکے اور قائم رہتے ہیں کہ بعض اوقات جنگوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے مگر وہ اپنی بات کی بیچ کے لئے اور دبد بہ حکومت قائم رکھنے کے لئے ملک کو جنگ میں ڈال دیتے ہیں لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اپنے فیصلہ کو واپس لے لیں۔جو لوگ تاریخ انگلستان سے واقف ہیں ان سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ ریاستہائے متحدہ سے جنگ کی وجہ یہی ہوئی کہ انگلستان کے رجالِ سیاست ایک فیصلہ دے کر اس کو واپس نہیں لینا چاہتے تھے گو وہ اس بات کو خوب سمجھ گئے تھے کہ ہم غلطی کر رہے ہیں جس کا نتیجہ ایک خونریز جنگ ہوئی اور ایک سرسبز وشاداب ملک ہاتھ سے جاتا رہا۔خود ہندوستان میں تقسیم بنگالہ کا فیصلہ ایک کھلی نظیر موجود ہے کہ خود وزراء انگلستان قبول کرتے کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہو لیکن ڈرتے تھے کہ اسے تبدیل کر دیں گے تو ملک میں حکومت کی بے رعبی ہو گی چنانچہ جب تک شہنشاہ ہند کی تاجپوشی کا ایک نہایت غیر معمولی (190