سیرت النبی ؐ — Page 189
موقع حاصل تھا۔علاوہ ازیں ایک آدمی جب بیٹھا یا کھڑا ہو تو وہ حملہ آور کا مقابلہ نہایت آسانی سے کر سکتا ہے اور کم سے کم اسے اپنی جنگی بدلنے میں آسانی ہوتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے حملہ کو اگر طاقت اور قوت سے میں نہیں روک سکتا تو کم سے کم چستی اور چالا کی سے اس کے حملہ کو ضرور بچاسکتا ہوں اور اس کی ضرب سے ایک طرف ہو کر اپنی جان بچانے کا موقع حاصل ہوسکتا ہے لیکن آنحضرت اس وقت لیٹے ہوئے تھے اور پھر سوئے ہوئے جاگے تھے جس کی وجہ سے کوئی ظاہری تدبیر دشمن کے حملہ کو روکنے کی نہ تھی اور پھر آپ تغیر علاقہ میں تھے اور دشمن اپنی جگہ پر تھا جہاں اپنی حفاظت کا اسے ہر طرح یقین تھا مگر باوجود ان حالات کے آپ نے ایک ذرہ بھر بھی تو گھبراہٹ ظاہر نہ کی۔اس اعرابی کا یہ کہنا بھی کہ اب تجھے کون بچا سکتا ہے صاف ظاہر کرتا ہے کہ اسے بھی کامل یقین تھا کہ اب کوئی دنیاوی سامان ان کے بچاؤ کا نہیں مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص پر میں حملہ کرنا چاہتا ہوں وہ معمولی انسانوں میں سے نہیں بلکہ ان میں سے ہے جو خالق ارض و سما کے دربار کے مقرب اور اس کے ظل عافیت کے نیچے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی یا ایتم نے اسے جس آرام اور اطمینان قلب کے ساتھ جواب دیا ہے کہ مجھے اللہ بچائے گاوہ روز روشن کی طرح اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ آپ کے دل میں غیر اللہ کا خوف ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں آتا تھا اور آپ کا دل ایسا مضبوط اور قوی تھا کہ خطر ناک سے خطر ناک اوقات میں بھی اس میں گھبراہٹ کا وجود نہ پایا جاتا تھا اور اپنے حواس پر آپ کو اس قدر قدرت تھی کہ اور تو اور خود دشمن بھی جو آپ کے قتل کے ارادہ سے آیا تھا بدحواس ہو گیا اور اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی کیونکہ اس نے دیکھ لیا کہ میں ایک ایسی طاقت کا مقابلہ کر رہا ہوں جسے نقصان پہنچانے کی بجائے میں خود تباہ ہو جاؤں گا۔(189