سیرت النبی ؐ — Page 188
ہم آپ کے پاس آئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک اعرابی بیٹھا ہے۔رسول اللہ ی ایم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری تلوار میان سے کھینچی اور میں سور ہا تھا پس میں جاگ پڑا اور اس کے ہاتھ میں نگی تلوار تھی پس اس نے مجھے کہا کہ مجھ سے تجھے کون بچائے گا میں نے اسے جواب دیا کہ اللہ بچائے گا۔پس دیکھو یہ سامنے بیٹھا ہے پھر جابر فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے اسے کوئی سزا نہ دی۔دوسری جگہوں سے اس واقعہ میں اس قدر اور زیادتی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کا نام سنکر اس شخص پر اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور آنحضرت نے اٹھالی اور اس سے فرمایا کہ اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا تو اس نے جواب دیا کہ کوئی نہیں۔پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا اور صحابہ کو بلا کر دکھا یا۔اس حدیث سے کیسے واضح طور سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کو اپنے حواس پر ایسا قابو تھا کہ نہایت خطرناک اوقات میں بھی آپ نہ گھبراتے۔کہنے کو تو شاید یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے کہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا کہ اب آپ کو کون بچائے گا اور آپ نے فرمایا کہ اللہ لیکن عمل میں یہ بات مشکل ترین امور میں سے ہے۔اول تو سو یا ہوا انسان پہلے ہی بہت سی غفلتوں کے نیچے ہوتا ہے اور بغیر کسی خوف وخطر کے بھی ایک سوئے ہوئے آدمی کو جگا دیا جائے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور کسی خطر ناک آواز یا نظارہ کو اگر ایک سو یا ہوا انسان سنکر یا دیکھ کر اٹھے تو اس کے حواس قائم رہنے نہایت مشکل ہوتے ہیں۔پس اگر جاگتے ہوئے کوئی دشمن حملہ کرتا تو وہ واقعہ ایسا صاف اور روشن نہ ہوتا جیسا کہ یہ ہے کیونکہ اس سے ایک طرف تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو کسی خطرہ کا گمان تک بھی نہ تھا جب اس شخص نے آپ پر حملہ کیا اور آپ کسی ایسے فعل سے انتہائی درجہ کی لاعلمی میں تھے اور دوسری طرف دشمن کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہر قسم کی تیاری اور ہوشیاری کا 188