سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 182

کہ قصیدہ میں جو مضامین بیان کئے گئے ہیں ان میں ایک شمہ بھر بھی صداقت و راستی نہیں امراء کی قید کیا ہے عام طور پر ہر ایک انسان کا یہی حال ہے (إِلَّا مَا شَاءَ اللہ) کہ وہ اپنی تعریف سنکر خوش ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ میری مدح کی جائے اور جب کوئی اسکی نسبت جھوٹی مدح سے بھی کام لیتا ہے تو اس کے اندر یہ جرأت نہیں ہوتی کہ اس کا انکار کر سکے بلکہ سکوت کو ہی پسند کر لیتا ہے۔مگر ہمارے آنحضرت فداہ ابی وامی ایسے برگزیدہ اور پاک و مطہر انسان تھے کہ آپ ان کمزوریوں سے بالکل پاک تھے۔اور اگر ایک طرف ہر قسم کی خوبیوں کے جامع اور نیکیوں کے خازن تھے تو دوسری طرف آپ یہ بھی کبھی پسند نہ فرماتے تھے کہ کوئی شخص آپ کی نسبت کوئی ایسی بات بیان کرے جو درحقیقت آپ میں نہیں پائی جاتی۔ربیع بنت معوذ سے روایت ہے کہ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ بَنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسَكَ مِنَى وَجُوَيْرِيَاتْ يَضْرِ بْنَ بِالدَّفَ يَنْدُ بْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ اَبَا ئِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةً: وَفِينَانَبِيُّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَا تَقَوْلِى هَكَذَا، وَقَوْلِى مَا كُنتِ تَقُولِين)۔( بخاری کتاب المغازی باب قصه غزوہ بدر ) یعنی جس دن میری شادی ہوئی ہے اس دن آنحضرت میرے پاس تشریف لائے اور میرے فرش پر بیٹھ گئے اسی طرح جس طرح تو بیٹھا ہے ( یہ بات راوی کو کہی ) اور کچھ لڑکیاں دف بجارہی تھیں اور بدر کی جنگ میں جو ان کے بزرگ مارے گئے تھے ان کی تعریفیں بیان کر رہی تھیں یہاں تک کہ ایک لڑکی نے یہ مصرع پڑھنا شروع کیا ( اس مصرع کا ترجمہ یہ ہے) کہ ہم میں ایک رسول ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔اس بات کو سنکر آنحضرت نے اسے ٹوکا اور فرمایا کہ یہ مت کہو اور جو کچھ پہلے گا رہی تھی وہی گاتی جا۔(182