سیرت النبی ؐ — Page 181
علم غیب سے انکار :- اب میں آنحضرت سلی لی ایم کے اخلاق کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کیسا مطہر پیدا کیا۔بادشاہوں کے درباروں اور رؤساء کی مجالس میں بیٹھنے والے جانتے ہیں کہ ان مقامات میں بیجا تعریف اور جھوٹی مدح کا بازار کیسا گرم رہتا ہے اور کس طرح درباری اور ہم مجلس رؤساء کی تعریف اور مدح میں آسمان اور زمین کے قلابے ملاتے ہیں اور وہ ان کوسن سنکر خوش اور شاداں ہوتے ہیں۔ایشیائی شاعری کا تو دارو مدار ہی عشقیہ غزلوں اور امراء کی مدح سرائی پر ہے۔شاعر اپنے قصیدہ میں جس امیر کی مدح کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے دنیا کی ہر ایک خوبی اس کی طرف منسوب کر دیتا ہے اور واقعات اور حقیقت سے اسے کوئی غرض نہیں ہوتی جس قدر ممکن ہو جھوٹ بولتا ہے اور تعریف کا کوئی شعبہ اٹھا نہیں رکھتا۔ہر ایک رنگ سے اس کی بڑائی بیان کرتا ہے اور اس کا دل خوب جانتا ہے کہ میرے بیان میں سوواں حصہ بھی صداقت نہیں۔سننے والے بھی جانتے ہیں کہ محض بکواس کر رہا ہے مگر وہ جب اس امیر یا بادشاہ کی مجلس یا در بار میں اپنا قصیدہ پڑھ کر سناتا ہے تو ہر ایک شعر پر اپنی داد کا خواہاں ہوتا ہے اور سننے والے جو اس کی دروغ گوئی سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں قصیدہ کے ایک ایک مصرع پر ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر داد دیتے اور تعریف کرتے ہیں کہ سبحان اللہ کیا خوب کہا اور خود وہ امیر جس کی شان میں وہ قصیدہ کہا جاتا ہے باوجود اس علم کے کہ مجھ میں وہ باتیں ہرگز نہیں پائی جاتیں جو شاعر نے اپنے قصیدہ میں بیان کی ہیں۔ایک ایک شعر پر اسے انعام دیتا اور اپنی ذات پر ناز وفخر کرتا ہے حالانکہ قصیدہ کہنے والا سننے والا اور جس کے حق میں کہا گیا ہے۔سب کے سب واقعات سے نا واقف نہیں ہوتے اور ہر ایک جانتا ہے 181