سیرت النبی ؐ — Page 180
اس واقعہ سے اس بات کی بھی مزید تائید ہو جاتی ہے کہ آپ کسی وقت نصیحت سے غافل نہ ہوتے تھے کیونکہ اب بھی آپ نے جو شعر پڑھنے کے لئے چنے ہیں وہ ایسے بال ہیں کہ ان میں مسلمانوں کو اپنے کام میں دل لگانے کے لئے ہزاروں ترغیبیں دی ہیں کس طرح انہیں اللہ تعالیٰ کا احسان بتایا ہے کہ یہ خدا کا ہی فضل ہے کہ تم مسلمان ہوئے اور خدا تعالیٰ پر احسان نہ جتانا کہ اس کے دین میں کوشش کر رہے ہو بلکہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اسلام کی توفیق دی اور تمہیں ہدایت کی راہوں پر چلا یا۔پھر کس طرح اشارہ فرمایا کہ یہ جنگ کوئی دنیاوی جنگ نہیں بلکہ ایک مذہبی جنگ ہے اور اس کا اصل باعث کیا ہے؟ صرف یہ کہ ہم خدا کو کیوں مانتے ہیں شرک کیوں نہیں کرتے اور کیوں کفار کی بات نہیں مان لیتے۔اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ جنگ کی ابتداء کفار کی طرف سے ہوتی ہے اور ہمارا کام تو یہی رہا ہے کہ ہم ان کی شرارتوں کے قبول کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔میں مانتا ہوں کہ یہ شعر کسی اور کے کہے ہوئے ہیں اور آپ شعر نہیں کہتے تھے مگر موقعہ پر ان شعروں کو چن لینا یہ بتاتا ہے کہ آپ کس طرح نصیحت کے پہلو کو ہمیشہ اختیار کرتے تھے عرب ایسے موقعوں پر شعر کہنے اور پڑھنے کے عادی ہیں اور صحابہ بھی شعر کہتے تھے مگر سب اشعار میں سے ان کو چن لینا یہ حکمت سے خالی نہ تھا اور واقعات بتا رہے ہیں کہ یہ انتخاب بے معنی نہ تھا بلکہ مسلمانوں کو بہت سے ضروری مسائل کی طرف متوجہ کرنا تھا۔غرض کہ آنحضرت کی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ خدا کی راہ میں ہر ایک کام میں صحابہ کے شریک رہتے تھے اور یہ بات دنیا کے کسی بادشاہ میں اس حد تک نہیں پائی جاتی۔(180