سیرت النبی ؐ — Page 174
اینٹیں ڈھورہے ہیں بلکہ خوب سمجھ لو کہ یہ اینٹیں جو تم ڈھور ہے ہو ان کھجوروں اور میووں کے بوجھ سے جو خیبر سے آتا ہے کہیں بہتر ہیں اور اس میں تمہارے نفوس کی پاکیزگی کا سامان ہے ان میووں کے بوجھ کی ہستی ہی کیا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اسے رکھا جائے۔دوسرے شعر میں آنحضرت نے انہیں بتایا ہے کہ اس کام میں کسی مزدوری یا نفع کا خیال مت رکھنا بلکہ یہ تو خدا کا کام ہے جس میں اگر کسی نفع کی امید ہے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوگا اور بجائے فوری نفع کے انجام کی بہتری ہوگی اور جس کا انجام اچھا ہو اس سے زیادہ کا میاب کون ہو سکتا ہے پس اسی پر نظر رکھو۔اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کر دی کہ خدا یا یہ لوگ اپنے کام چھوڑ کر تیرے لئے مشقت اٹھا رہے ہیں تو ان پر رحم فرما۔پس شاعر نے تو جن خیالات کے ماتحت اشعار کہے ہوں گے ان سے وہی واقف ہو گا مگر آپ نے ان اشعار کو پڑھ کر اس کے معانی کو وہ وسعت دے دی ہے کہ باید و شاید۔ہر کام میں صحابہ کے شریک ہوتے میں نے اس سے پہلے آنحضرت سلیا ایلم کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جس سے آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور انسانی قلب اس سے اعلیٰ سے اعلیٰ اصول طہارت نفس کے اور قومی ترقی کے نکال سکتا ہے۔اب میں ایک اور واقعہ اسی پہلے واقعہ کی تائید میں درج کرتا ہوں لیکن چونکہ وہ نئے حالات اور نئے واقعات کو لئے ہوئے ہے اس لئے اس کا ذکر بھی کسی قدر تفصیل سے ہی مناسب ہے۔یہ بات تو تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آنحضرت سے جو مخالفت مکہ والوں کو تھی اس کی نظیر دنیا کی کسی اور تاریخ میں نہیں ملتی۔آپ کی مخالفت اور ایذاء رسانی کے لئے جو تدابیر 174