سیرت النبی ؐ — Page 173
جنگ چھڑ گئی تو ان کے قدموں میں وہ ثبات دیکھا گیا اور ان کے ہاتھوں نے ایسی طاقت کے کارنامے دکھائے اور ان کے دلوں نے ایسی بے ہر اسی اور بے خوفی کا اظہار کیا کہ دنیا دنگ ہوگئی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ آنکھوں کے سامنے آنحضرت کا پاک نمونہ ہر وقت رہتا تھا اور وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس دین و دنیا کے بادشاہ کو نہ بھولتے تھے اور اپنے سے دس دس گنا فوج کو الٹ کر پھینک دیتے تھے بلکہ صحابہ دوسرے عربوں کی جنگ پر بھی ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ اب دنیا کو کیا ہو گیا۔آنحضرت کے ماتحت تو ہم اس طرح لڑتے تھے کہ پروں کے پرے اڑا دیتے تھے اور کوئی ہمارے سامنے ٹھہر نہ سکتا تھا پس آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے میں تد بیر ملکی کا وہ نمونہ نمایاں ہے کہ جس کی مثال کوئی اور انسان نہیں پیش کرسکتا۔اس حدیث سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت کو ہر وقت اپنے صحابہ کو نیکی اور تقویٰ کی تعلیم دینے کا خیال رہتا تھا کیونکہ آپ نے اس موقع پر جو اشعار بچنے ہیں وہ ایسے بے نظیر اور مناسب موقع ہیں کہ ان سے بڑھ کر ناممکن ہے۔آپ کی عادت تھی کہ آپ پورا شعر نہیں پڑھا کرتے تھے مگر صرف اس موقع پر یا ایک دو اور موقعوں پر آپ نے پورے شعر پڑھتے ہیں۔ہاں آپ شعر بالکل نہ کہتے تھے اور یہ شعر بھی کسی اور مسلمان کے کہے ہوئے تھے۔ہاں تو ان اشعار میں آپ نے صحابہ کو بتایا ہے کہ تم خیبر کی کھجور میں اور سبزیاں وغیرہ اکثر اُٹھاتے ہو گے اور اس کے اٹھانے میں تمہیں یہ خیال ہوتا ہوگا کہ ہم دنیا کا فائدہ اٹھائیں گے اور مال کمائیں گے۔مگر یہ یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کے لئے جو کام انسان کرتا ہے وہ گو بظاہر کیسا ہی ادنی معلوم ہو۔درحقیقت نہایت پاک اور عمدہ نتائج پیدا کرنے والا ہوتا ہے پس یہ خیال اپنے دلوں میں مت لا نا کہ ہم اس وقت کیسا ادنی کام کرتے ہیں کہ مٹی اور 173