سیرت النبی ؐ — Page 172
رض تھے ، سردار بھی تھے مالدار بھی تھے ، معزز بھی تھے ، مگر وہ سب کے سب اپنے عقیدہ کی بناء پر اپنے آپ کو آنحضرت سے کم درجہ پر یقین کرتے تھے اور اپنے آپکو خادم سمجھتے تھے۔پس جب وہ آپ کو اس جوش سے کام کرتے ہو دیکھتے ہوں گے تو کیا ان کے بدن کے ہر ایک حصہ میں سنسناہٹ نہ پھیل جاتی ہوگی اور کیا امیر سے امیر انسان بھی اس بلند رتبہ انسان کی معیت میں اینٹیں ڈھونا اپنے لئے ایک نعمت عظمیٰ نہ خیال کرتا ہوگا اور بجائے ذلت کے عزت نہ جانتا ہوگا۔ہاں ان میں سے ہر ایک ایسا ہی سمجھتا ہوگا اور بالکل ایسا ہی سمجھتا ہو گا۔اور چونکہ آنحضرت اپنی ساری عمر میں اسی نمونہ پر قائم رہے اور آپ نے کبھی اس سنت کو ترک نہیں کیا اس لئے آپ کے صحابہ میں یہ بات طبیعت ثانی ہو گئی تھی اور وہ روزانہ ان کی معیت کے جوش سے متاثر ہو کر جس طرح کام کرتے تھے اس کے ایسے عادی ہو گئے تھے کہ آپ کی غیر حاضری میں بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی ان کا طریق عمل وہی تھا اور یہ ایک عام بات ہے کہ انسان جس کام کو کچھ مدت تک لگا تار کرتا رہے اس کا عادی ہو جاتا ہے اور جولوگ ابتداء میں سستی کی عادت ڈال لیتے ہیں وہ مست ہی رہتے ہیں اور جو چستی سے کام کرنے کے عادی ہوں وہ اسی طریق پر کام کئے جاتے ہیں پس جبکہ آنحضرت ہر ایک کام میں صحابہ کے شریک حال بن کر ان کو خطر ناک سے خطرناک اور خوفناک سے خوفناک کام کے کرنے پر آمادہ کر دیتے تھے۔اور اسی طرح دنیا داروں کی نظروں میں ادنی سے ادنی نظر آنے والے کاموں میں بھی ساتھ شریک ہوکر ان کے دلوں سے جھوٹی عزت اور تکبر کے خیالات کو بالکل نکال دیتے تھے اور اس طریق کا آپ ان کو دس سال متواتر عادی کرتے رہے تھے۔یہ عادت انہیں کیونکر بھول سکتی تھی۔چنانچہ جب صحابہ کو اپنے سے کئی کئی گناہ سپاہ سے مقابلہ پیش آیا اور اس وقت کی کل متمدن قوموں سے ایک ہی وقت میں (172)