سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 171

کہ انہیں ان کی طاقت سے زیادہ کام دیا گیا ہے اور اس بے دلی کی وجہ سے وہ جس قدر کام کر سکتے ہیں اس سے نصف بھی نہ کر سکیں گے اور جو کچھ کریں گے بھی وہ بھی ادھورا ہو گا مگر جب خود افسر اس کام میں شریک ہو گا اور سب سے آگے اس کا قدم پڑتا ہو گا تو ما تحت شکایت تو الگ رہی اپنی طاقت اور قوت کا سوال ہی بھول جائیں گے اور ان میں کوئی اور ہی روح کام کرنے لگے گی۔اور اسی حکمت سے کام لے کر آنحضرت نے صحابہ کی زندگیوں میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی تھی کہ وہ معمولی انسانوں سے بہت زیادہ کام کرنے والے ہو گئے تھے۔وہ ہر ایک کام میں اپنے سامنے ایک نمونہ دیکھتے تھے حتی کہ اگر اینٹیں ڈھونے کا کام بھی ہوتا تھا جو عام مزدوروں کا کام ہے اور ان کا رسول انہیں اس کام کے کرنے کا حکم دیتا تھا تو سب سے پہلے وہ خود اس کام کی ابتداء کرتا تھا جس کی وجہ سے مردہ دلوں کے دل زندہ اور سستوں کے بدن چست اور کم ہمتوں کی ہمتیں بلند ہو جاتی تھیں۔ہر ایک عقلمند اس بات کو سوچ کر معلوم کر سکتا ہے کہ جو لوگ آنحضرت کی نسبت یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں، اس کے رسول ہیں اس کے نبی ہیں سب انبیاء سے افضل ہیں، آپ کی اطاعت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے، آپ کی ہی فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے، آپ کل انبیاء کے کمالات کے جامع ہیں، آپ کی ہی خدمت کرنے سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں، وہ جب دیکھتے ہوں گے کہ ایسا عظیم الشان انسان خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھ کر مسجد بنانے والوں تک پہنچاتا ہے تو ان کے اندر کن خیالات کا دریا موجزن ہوتا ہوگا اور وہ کس جوش اور کس خلوص سے اس کام کو بجالاتے ہوں گے بلکہ کس طرح بجائے تکان کے انکے چہروں سے بشاشت ٹپکتی ہو گی۔ان میں اچھے اچھے رؤساء بھی 171