سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 167

سب کاموں میں صحابہ کے مددگار رہتے آپ مسجد کی اینٹیں ڈھوتے رہتے :- آنحضرت صلی لا یتیم کی کونسی خوبی ہے جسے انسان خاص طور پر بیان کر سکے۔کوئی شعبہ زندگی بھی تو نہیں جس میں آپ دوسروں کے لئے نظیر نہ ہوں۔مختلف خوبیوں میں مختلف لوگ باکمال ہوتے ہیں مگر یہ دین ودنیا کا بادشاہ تو ہر بات میں دوسروں پر فائق تھا۔جو بات بھی لواس میں آپ کو صاحب کمال پاؤ گے۔میں نے پچھلے باب میں بتایا تھا کہ آپ اپنے گھر میں بیویوں کو ان کے کاموں میں مدد دیتے تھے مگر اب اس سے زیادہ میں ایک واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں آپ کسی ادنیٰ سے ادنی کام میں حرج نہ دیکھتے تھے بلکہ اس میں فخر محسوس کرتے تھے اور صحابہ کے دوش بدوش ہو کر ہر ایک چھوٹے سے چھوٹا کام کرتے اور کبھی یہ نہ ہوتا کہ انہیں حکم دے دیں اور آپ خاموش ہو کر بیٹھ رہیں۔صحابہ کی خوشی تو اسی میں تھی کہ آپ آرام فرما ئیں اور وہ آپ کے سامنے اپنی فدائیت اور اخلاص کے جو ہر دکھا ئیں مگر آپ کبھی اس کو پسند نہ فرماتے اور ہر کام میں خود شریک ہوتے اور صحابہ کا ہاتھ بٹاتے۔حضرت عائشہ ہجرت کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کر کے فرماتی ہیں کہ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِنْدَمَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّى فِيْهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالُ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسْهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي حَجْرِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ بَرَكَتْ بِهِ (167)