سیرت النبی ؐ — Page 166
حضرت انس کی روایت اس لحاظ سے قریباً اہل بیت کے برابر سمجھی جانے کے قابل ہے کہ آپ ابھی بچہ تھے کہ آنحضرت سیل الیہ ہم کے ساتھ رہے کیونکہ ان کے رشتہ داروں نے انہیں آنحضرت کی خدمت کے لئے پیش کیا تھا اور یہ آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے کے وقت سے جو آپ کے ساتھ رہے تو وفات تک الگ نہ ہوئے اور آپ کی زندگی بھر خدمت میں مشغول رہے۔پس آپ کی روایت ایک واقف کار کی روایت ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ایسے امور میں بہت سے دوسروں کی نسبت زیادہ پختہ اور مضبوط رائے دے سکتا تھا اس لئے نہایت وزن دار اور واقعات کے مطابق ہے۔اب اس کی زندگی مجموعی حیثیت سے دیکھو کہ ایک انسان بادشاہ ہے اسے سب کچھ نصیب ہے۔اگر چاہے تو اچھے سے اچھے کھانے کھا سکتا ہے اور پر تکلف دستر خوان پر بیٹھ سکتا ہے لیکن باوجود مقدرت کے وہ اسی بات پر کفایت کرتا ہے کہ کبھی تو کجھور اور پانی سے اپنی بھوک کو تو ڑلیتا ہے اور کبھی جو کی روٹی کھا کر گزارہ کر لیتا ہے اور کبھی گیہوں کی روٹی تو کھاتا ہے مگر وہ بے چھنے آٹے کی ہوتی ہے۔پھر نہ اس کے سامنے کوئی بڑا دستر خوان بچھایا جاتا ہے نہ سینیوں میں کھانا چنا جاتا ہے بلکہ ایک معمولی دستر خوان پر سادہ کھانا رکھ کر کھا لیتا ہے اور با وجود ایسی سادہ زندگی بسر کرنے کے دنیا کے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا کھانے والوں اور اپنے جسم کی پرورش کر نیوالوں سے ہزار گنا بڑھ کر کام کرتا ہے۔آنحضرت نے اپنی زندگی میں یہ بھی نمونہ دکھا دیا ہے کہ ہر قسم کی اعلیٰ سے اعلیٰ غذا ئیں بھی استعمال فرما لیتے تھے مگر دوسری طرف اس سادہ زندگی سے ہمارے ان امراء کے لئے ایک نمونہ بھی قائم کر دیا ہے جن کی زندگی کا انتہائی مقصد اعلیٰ خوراک اور پوشاک ہوتی ہے۔(166