سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 162

ہے جو آپ کے ہر فعل سے ہو ید ا تھی۔دنیا طلبی اور اظہار جاہ وجلال کی آگ اس وقت لوگوں کے دلوں کو جلا رہی تھی اور امراء تو اس کے بغیر امراء ہی نہیں سمجھے جاتے تھے مگر اس آگ میں سے سلامت نکلنے والا صرف وہی ابراہیم کا ایک فرزند ( لای لا پیام ) تھا جس نے اپنے دادا کا معجزہ اور بھی بڑی شان کے ساتھ دنیا کو دکھایا۔میں نے پچھلے باب میں آنحضرت سلائی یتیم کی سادگی کا ذکر کیا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات سے محفوظ تھے اور آپ کا ہر ایک فعل اپنے اندر سادگی اور بے تکلفی کا رنگ رکھتا تھا اب میں آپ کی سادہ زندگی کا حال بیان کرنا چاہتا ہوں۔کھجور اور پانی پر گزارہ:- جو لوگ اس زمانہ کے امراء اور دولتمندوں کے دیکھنے کے عادی ہیں وہ تو خیال کرتے ہوں گے کہ رسول اللہ صلی ایتم بھی انہیں کی طرح عمدہ عمدہ کھانے کھایا کرتے ہوں گے اور ایک شاہانہ دستر خوان آپ کے آگے بچھتا ہوگا لیکن وہ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ واقعہ بالکل خلاف تھا۔اور اگر ایک طرف آنحضرت صلی سیستم سادگی کے کامل نمونہ تھے دوسری طرف سادہ زندگی میں بھی آپ دنیا کے لئے ایک نمونہ تھے۔حضرت عائشہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بھانجہ حضرت عروہ سے فرمایا يَا ابْنَ أُخْتِيْ إِنْ كُنَّا لَتَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةِ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا أَوْ قِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُوْلِا للهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِ فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مَا كَانَ يُعِيْشُكُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَمَرُ وَ الْمَاءَ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيْرَانْ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ وَكَانُوا يَمْنَحُوْنَ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَائِهَا فَيَسْقِينَا (بخارى كتاب الهبة و فضلها)اے میرے بھانجے ہم لوگ تو دیکھا کرتے تھے ہلال کے بعد ہلال حتی کہ تین تین ہلال دیکھ لیتے یعنی دو ماہ گزر جاتے مگر 162